Al-Risala · July 2002 · page 84

ذہنی تناؤ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۸۴

فرش پر ننگے پاؤں چلتے تھے۔ اس کو وہ جہاد کی تیاری سمجھتے تھے۔ اُن کا یہ عمل اُن کے قلبی اخلاص کا ثبوت تو ضرور ہو سکتا ہے مگر اس کا کوئی تعلق مہاراجہ رنجیت سنگھ کی اعلیٰ تربیت یافتہ فوج کے خلاف جنگ کی تیاری سے نہیں۔ کیوں کہ اس جنگ میں جو چیز فیصلہ کن بننے والی تھی وہ فوجی طاقت تھی، نہ کہ ننگے پاؤں گرم پتھر پر چلنے کی مشق۔

انہی کمیوں کا یہ نتیجہ تھا کہ اُن کا یہ مسلح جہاد صرف یک طرفہ تباہی پر ختم ہوا۔ کسی شخص کی نیت خواہ کتنا ہی زیادہ درست ہو، لیکن اگر وہ پتھر کو توڑنے کے لیے اپنا سر اُس سے ٹکرانے لگے تو یقینی طور پر حسن نیت کے باوجود اُس کا سر ٹوٹ جائے گا۔ کیوں کہ پتھر کو ہتھوڑے سے توڑا جا سکتا ہے مگر سر سے نہیں۔ بے بنیاد سوچ انڈیا کے ہندو اور مسلمان دونوں ایک ہی قسم کی غلط سوچ میں مبتلا ہیں۔ دونوں ہی یکساں طور پر ایک فرضی یقین میں جی رہے ہیں۔ دونوں کے کیس کو مختصر الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: مسلم : اسلام سچا ہے، اس لیے میں بھی سچا ہوں۔

ہندو : ہر مذہب سچا ہے، اس لیے میں بھی سچا ہوں۔

یہ دونوں ہی قسم کی سوچ غلط مفروضات پر قائم ہے۔ غیر جانبدارانہ تجزیہ اُن کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس قسم کا یقین محض خوش عقیدگی کی بنیاد پر قائم ہے، وہ کسی حقیقی دلیل کی بنیاد پر قائم نہیں۔

اب مسلمان کے معاملہ کو لیجیے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اسلام سچا اور برحق مذہب ہے۔ اسلام کا برحق مذہب ہونا اسی دنیا میں آج بھی ایک معلوم اور مسلّم حقیقت ہے۔ قرآن کی متعدد آیتیں اس کا ثبوت ہیں۔ مثلاً: ان الدین عندالله الإسلام (آل عمران (۱۹) اسی طرح فرمایا: ومن يبتغ غير الاسلام دینا فلن يقبل منه و ھو في الآخرة من الخاسرين (آل عمران (۸۵)۔ اس طرح کی آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا سچا اور برحق ہونا آج بھی ایک معلوم اور مسلّم حقیقت ہے۔ مگر جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے، اُن کی حیثیت اس اعتبار سے بالکل مختلف ہے۔ کوئی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page