ذہنی تناؤ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲
شخص جو اسلام کا دعویٰ کر رہا ہے یا کوئی گروہ جو اپنے آپ کو اسلامی گروہ بتاتا ہے اُس کا اسلام صرف آخرت میں معتبر اور متحقّق ہوگا، موت سے پہلے کی دنیا میں نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو اندیشہ اور اُمید کے درمیان جینا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ: الایمان بین الرجاء والخوف۔
اب ہندو کے معاملہ کو لیجئے۔ یہ نظریہ کہ ہر مذہب سچا ہے، ایک غیر علمی اور غیر منطقی نظریہ ہے۔ مذاہب کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ اُن کے درمیان بنیادی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً کسی کے نزدیک خدا ایک ہے اور کسی کے نزدیک وہ متعدّد ہے۔ کوئی پرسنل گاڈ میں یقین رکھتا ہے اور کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خدا ایک سرایت کی ہوئی اسپرٹ (pervadingspirit) ہے، جس کا کوئی علیحدہ تشخص نہیں۔ کوئی پیغمبری کو مانتا ہے اور کوئی اوتارواد کواورکوئی ابنیتِ خدا کو وغیرہ وغیرہ۔ مذاہب کے درمیان اس قسم کے بنیادی اختلافات موجود ہیں، ایسی حالت میں ہر مذہب کو یکساں بتانا ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے کوئی علمی اور منطقی اساس موجود نہیں۔ مزید یہ کہ ’’ہر مذہب سچا ہے‘‘ کا نظریہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ مذہب سچائی کا نمائندہ ہے۔ اور سچائی کبھی تعدد کو قبول نہیں کرتی۔ سچائی وہی ہے جو ایک ہو، جو سچائی کئی ہو وہ سچائی بھی نہیں۔ مذہب کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو یقین اور اعتماد عطا کرے ۔ وہ اُس کے لیے جینے کا غیر متزلزل سہارا ہو۔ جو بحران کے لمحات میں اُس کے لیے بھروسہ بن سکے۔ یہ مقصد صرف ایک سچائی کے تصور سے پورا ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ آدمی صرف کسی ایک سچائی پر اپنے ذہن کو مرتکز کر سکتا ہے، نہ کہ کئی سچائیوں پر۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو کہنے میں خوب صورت معلوم ہوتی ہیں، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ بے معنی ہوتی ہیں۔ وہ گریمر کے اعتبار سے درست مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط۔ ذہنی ترقی میں رکاوٹ دہلی کے ایک اُردو ماہنامہ میں دعوت اسلام کے موضوع پر ایک تبصرہ چھپا ہے۔ صاحب تحریر کا ایک پیرا گراف یہ ہے ’’تحریک اسلامی کے ایک ممتاز، بلند پایہ رہنما نے بڑی اچھی بات کہی کہ موجودہ جدید جمہوری آزاد ہندوستان میں، دار الکفر اور دار الاسلام کی فقہی اصطلاحوں میں نہ پڑیے، یہ پورا ملک دار الدعوہ ہے اور یہ امت مسلمہ امت دعوت ہے۔ (زندگی نو، مارچ ۲۰۰۲ء، صفحہ ۷۲)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues