Al-Risala · January 2002 · page 34

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۴

کی پر عظمت کہانیاں ہیں۔ مگر اس قسم کی چیزیں محض ذہن کو خوش کرنے کے لیے ہیں۔ اس سے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔

ڈھاکہ کے مشہور بنگلہ اخبار روز نامہ جنکتھا (Janakantha) کے نمائندہ مسٹر نور عالم نے انٹرویو لیا۔ یہ بنگلہ دیش کا سب سے بڑا اخبار ہے۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ ۱۹۷۱ میں بنگلہ دیش نے آزادی کی جو لڑائی لڑی اس وقت کچھ لوگوں نے کھلے طور پر پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ یہ لوگ بلا شبہ جنگی مجرم ہیں۔ پھر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ کیوں نہ چلایا جائے۔ میں نے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ انہوں نے اس موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ اگر انتقام کی کارروائی چلائیں تو یہ کارروائی کبھی ختم نہ ہوگی۔ اس کو ختم کرنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو معاف کر دیا جائے۔ آپ ماضی کو بھلا دیں اور مستقبل کی طرف دیکھیں ۔ ماضی کی طرف دیکھنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مستقبل کی تعمیر کا سفر ہی شروع نہ ہو سکے گا۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ اللہ نے کچھ مچھلیاں بنائیں اور پھر ان کو پانی کے باہر خشکی پر ڈال دیا۔ صرف اس لئے تا کہ وہ ساری زندگی تڑپتی رہیں اور آخر میں پھر اللہ کی رحمت سے ان کو پانی میں ڈال دیا جائے۔ شاید ایسا ہی کچھ معاملہ اہل جنت کا بھی ہے۔ جنت غالباً ان لوگوں کے لئے ہے جن کا مزاج کچھ اس طرح کا بنا دیا گیا ہو کہ وہ اصول کو چھوڑ کر سمجھوتہ والی زندگی گزارنے پر راضی ہی نہ ہوں ۔ اور اس کے نتیجہ میں ساری عمر مصیبت اٹھاتے رہیں ۔ یہاں تک کہ آخر میں اللہ ان پر رحم کرے اور فرشتوں کو حکم دے دے کہ میرے ان بندوں کو جنت میں داخل کر دو۔ وہ دنیا میں بہت دکھ اٹھا چکے، اب آخرت میں ان کو دکھ دینا مجھے منظور نہیں۔

ایک کشمیری پروفیسر نے ایک عبرت انگیز قصہ بتایا۔ کشمیر میں ایک جاہل آدمی جو محنت مزدوری کا کام کرتا تھا، ایک دن اچانک اس نے اعلان کیا کہ رسول اللہ مجھ کو خواب میں آئے اور کہا کہ تم کو شہادت مبارک ہو۔ اس کے بعد اس نے محنت مزدوری کا کام چھوڑ کر جنگجوئی کا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page