امن کس لئے
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲
اس عبارت میں مذکورہ رہنما کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ رہنما سے مراد کون صاحب ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان کے بارے میں دار الدعوہ کا لفظ پہلی بار راقم الحروف نے استعمال کیا۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ مجھ سے پہلے کسی نے ہندوستان کو دار الدعوہ کہا ہو۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس سے پہلے مسلم رہنماؤں میں سے کسی نے ہندوستان کو دار الکفر کہا، کسی نے دارالحرب کہا، کسی نے دارالطاغوت کہا، کسی نے دار الامن کہا۔ مگر کوئی بھی شخص ہندوستان کو دار الدعوہ نہ کہہ سکا تھا۔ ہندوستان کے لیے دار الدعوہ کا لفظ پہلی بار میں نے استعمال کیا۔ اور اس کے حق میں شرعی دلائل فراہم کیے۔ اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ مضمون نگار کے نزدیک وہ کون شخص ہے جس نے یہ بتایا کہ ہندوستان دار الدعوہ ہے۔ اگر وہ جانتے ہیں کہ یہ کام راقم الحروف نے کیا ہے، پھر بھی اُنہیں میرا نام لینا پسند نہیں تو یہ ایک قسم کی ذہنی بزدلی ہے۔ اور اگر وہ اپنے حلقہ کے کسی بزرگ کو فرضی طور پر یہ کریڈٹ دینا چاہتے ہیں تو یہ بد ترین قسم کی گروہ پرستی ہے۔ دونوں حالتوں میں یہ حقائق پر مصلحت کو ترجیح دینا ہے۔ اس کے سوا اس کی کوئی اور توجیہہ ممکن نہیں۔
تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر لوگ اس قسم کی کمزوری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کمزوری کا سب سے بڑا نقصان کسی دوسرے کو نہیں پہنچتا بلکہ خود اس شخص کو پہنچتا ہے جو ایسی کمزوری میں مبتلا ہو۔ اُس کو اپنی اس کمزوری کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ اُس کا ذہنی ارتقاء رک جائے۔ اس قسم کی کمزوری آدمی کے ذہن کو بند ذہن بنا دیتی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بند ذہن کسی آدمی کے ذہنی اور فکری ارتقاء میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ذہنی ارتقاء کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک ارتقاء یافتہ ذہن ہی کو وہ اعلیٰ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو معرفت کہا گیا ہے۔ اور معرفت کا نہایت گہرا تعلق دینی فہم سے ہے۔ معرفت کے بغیر علم صرف معلومات ہے، اور معرفت کے ساتھ علم بصیرت کا خزانہ۔
امن کس لئے
امن کی تعریف اہل علم حضرات اس طرح کرتے ہیں کہ امن عدم جنگ (absence of war)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues