Through violence we lose, through peace we gain.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲
یہ سوچ بالکل الٹی سوچ ہے۔ کیوں کہ تاریخ تجربہ بتاتا ہے کہ تشدد کے ذریعہ ہم کھوتے ہیں اور امن کے ذریعہ ہم حاصل کرتے ہیں:
Through violence we lose, through peace we gain.
ہٹلر اور اسٹالن جیسے بہت سے ڈکٹیٹروں نے بہت بڑے پیمانہ پر تشدد کیا، اپنے خیال کے مطابق، اپنے مفروضہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے۔ مگر بلا استثناء ہر ایک کے تشدد کا انجام صرف تباہی کی صورت میں نکلا۔
یہی معاملہ خود مسلمانوں کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مختلف علاقہ کے مسلمانوں نے بزعم خود انصاف کے لیے یا اپنے حقوق کے حصول کے لیے تشدد کا طریقہ اختیار کیا۔ مگر اس کا نتیجہ ہمیشہ عکس صورت میں نکلا۔ تشدد کے آغاز میں وہ جہاں تھے، تشدد کے آخر میں وہ اُس سے بھی زیادہ پیچھے چلے گئے۔ اس کی ایک مثال فلسطین کا مسئلہ ہے۔ اعلان بالفور (Balfour Declaration) کے تحت ۱۹۴۸ میں یہودیوں کو فلسطین کا ایک تہائی حصہ دیا گیا۔ اس کے مقابلہ میں عربوں کو فلسطین کا دو تہائی حصہ حاصل ہوا جس میں پورا یروشلم بھی شامل تھا۔ مگر عربوں نے اس تقسیم کو قبول نہیں کیا اور اعلان کیا کہ ہم یہودیوں کو سمندر میں دھکیل دیں گے۔ عربوں کی یہ جدوجہد ابتداء ہی سے تشدد کے راستہ پر چل پڑی اور آج تک اسی راستہ پر چل رہی ہے۔ مگر بے پناہ جانی اور مالی قربانی کے باوجود اس کا نتیجہ عربوں کو صرف ذلت اور محرومی کی صورت میں ملا۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں آیا ہے کہ : إن الله يعطى على الرفق ما لا يعطى على العنف (اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا)۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خدا نے اس دنیا کے لیے جو قانون مقرر کیا ہے اُس کے تحت یہاں کا کامیابی صرف پر امن طریق کار میں لکھ دی گئی ہے، پرتشدد طریقہ کار کے ذریعہ یہاں کسی کو کامیابی ملنے والی نہیں۔
ایک اور روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: لا تتمنوا لقاء العدو واسئلوا الله العافية (دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو)۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues