Al-Risala · July 2002 · page

Through violence we lose, through peace we gain.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲

میں یہ ہے کہ اگر کسی کے ساتھ عداوت کے اسباب پیدا ہوں تو اُس کے مقابلہ میں تمہاری جوابی منصوبہ بندی امن کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ تشدد کی بنیاد پر۔

اصل یہ ہے کہ آدمی جب بھی تشدد کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ جذبات سے مغلوب ہو کر ایسا کرتا ہے۔ وہ ضد اور انتقام کی نفسیات کے تحت تشدد کے راستہ پر چل پڑتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرے کہ اس قسم کے مواقع پر اپنے منفی جذبات کو قابو میں رکھے، وہ حقیقت پسندانہ انداز میں پورے معاملہ کا بے لاگ جائزہ لے کر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے تو وہ کبھی تشدد کا طریقہ اختیار نہیں کرے گا۔ وہ ہر حال میں امن کے حدود میں رہ کر اپنی کارروائی کرے گا۔ خواہ امن کا طریقہ اختیار کرنے میں ابتدائی طور پر اُس کو کچھ محرومی کو برداشت کرناپڑے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پر امن طریقہ اختیار کرنے میں بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ آدمی کو کچھ نقصان برداشت کرناپڑے گا۔ لیکن اگر اس کے اندر غیر متاثر سوچ ہو تو وہ اُس کو بتائے گی کہ تھوڑے نقصان کو برداشت کر لو تا کہ تمہیں بڑے نقصان کو برداشت نہ کرناپڑے۔ جو کچھ کھو یا جا چکا ہے اُس کو حاصل کرنے کی کوشش میں ایسا نہ ہو کہ جو کچھ اب بھی حاصل ہے اُس کو بھی کھو دینا پڑے۔ اوپر اُٹھ کر سوچنا جب ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان یا ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کسی معاملہ میں نزاع پیدا ہو تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ وقتی مسائل سے اوپر اُٹھ کر سوچ نہیں پاتے۔ سامنے کا نقصان، عزت کا سوال، اس قسم کی چیزیں آدمی کے ذہن پر اتنا زیادہ غالب آتی ہیں کہ اُس کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ نزاع سے الگ ہو کر سوچے اور زیادہ دور رس فیصلہ کر سکے۔

اسی کوتاہ فہمی کا یہ نتیجہ ہے کہ اکثر افراد اور اکثر قومیں کسی نہ کسی مسئلہ میں الجھی رہتی ہیں۔ اُن کے وقت اور اُن کی طاقت کا ایک بڑا حصہ مستقل طور پر مسائل کے حل کے نام پر غیر مفید چیزوں میں ضائع ہوتا رہتا ہے۔ حالانکہ عقل مندی یہ ہے کہ اپنی پوری قوت کو صرف تعمیر و ترقی کے کام میں لگایا جائے۔ دانش مندی یہ ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہو تو فوری تقاضوں (considerations) کو

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page