ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۵
”پروفیشن‘‘ اختیار کر لیا۔ اب وہ لوگوں کے درمیان عسکری لیڈر بن کر گھومنے لگا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ شخص تو بالکل جاہل ہے اور وہ ہمارا لیڈر بننا چاہتا ہے۔ ایک روز وہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا۔ اس وقت امام خطبہ دے رہا تھا۔ بندوق بردار عسکری لیڈر نے بلند آواز سے کہا کہ امام صاحب رک جائیے، مجھ کو ایک ضروری بات کہنا ہے۔ اس نے کہا کہ میرے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ میں پڑھا لکھا آدمی نہیں ہوں۔ مجھے یہ بتائیے کہ رسول اللہ نے کس مدرسہ میں پڑھا تھا۔ تمام حاضرین نے سر جھکا لیا۔ اور اس طرح گویا بندوق بردار عسکری لیڈر کی بات کی خاموش تصدیق کی۔
پاکستان سے آنے والے ایک ڈیلی گیٹ نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت یہ صورت حال ہے کہ وہاں آپ نہایت آسانی سے دیواروں پر ایسا پوسٹر دیکھ سکتے ہیں جس پر لکھا ہوگا : جنت میں جانے کا سب سے قریبی راستہ، شہادت۔ اسی طرح کسی اور پوسٹر میں لکھا ہوگا : جتنا بڑا خاندان اتنے ہی زیادہ مجاہد۔
یہ کوئی اسلامی سوچ نہیں، وہ ایک قومی جنون ہے۔ بدقسمتی سے یہ قومی جنون اس وقت ساری مسلم دنیا میں پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ زبان سے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں، اور کچھ لوگ عملاً جہاد و شہادت کے اس میدان میں کود پڑے ہیں۔
مسلم دنیا میں یہ مجنونانہ سوچ کیوں ہے ۔ ایک پروفیسر نے بجا طور پر کہا کہ موجودہ مسلمان ساری دنیا میں احساس شکست (defeatist mentality) کا شکار ہیں۔ اس قسم کی منفی باتیں اسی مایوسانہ ذہن سے نکلی ہیں ، نہ کہ مثبت طور پر قرآن و سنت کے مطالعہ سے۔ ایک صاحب سے میں نے سوال کیا کہ موجودہ دنیا میں مسلمان دو طبقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان ایک بلا اعلان جنگ جاری ہے۔ ایک طبقہ وہ جس کو اسلام پسند طبقہ کہا جاتا ہے اور دوسرا طبقہ وہ جس کو سیکولر طبقہ کہا جاتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس صورت حال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ دراصل اسلام پسند طبقہ کی ناکامی کا نتیجہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues