Al-Risala · July 2002 · page

تنقید کوئی برائی نہیں

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲

نظر انداز کر کے مستقبل کے اعتبار سے جرات مندانہ فیصلہ کیا جائے۔ مسئلہ پیدا ہونے کے بعد ساری توجہ مسئلہ کو ختم کرنے پر لگائی جائے ۔ ہر فوری نقصان کو گوارا کرتے ہوئے مصالحت کر لی جائے۔ ایسے ہر موقع پر آپ کا نشانہ نزاع کو ختم کرنا ہونا چاہیے ، نہ کہ خود مسئلہ کو ختم کرنا ۔ آپ کو چاہئے کہ آپ مستقبل کو دیکھیں ، نہ کہ صرف حال کو ۔ آپ کی نظر ملنے والے امکان پر ہونی چاہیے ، نہ کہ کھوئے جانے والے نقصان پر۔ یہی اس دنیا میں ترقی کا واحد راز ہے۔

تنقید کوئی برائی نہیں

بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ کام کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اُس میں تنقید کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ غیر تنقیدی انداز عوام کی بھیڑ جمع کرنے کے لیے تو یقیناً مفید ہے مگر وہ کسی گہرے اصلاحی کام کے لیے ہرگز مفید نہیں۔ تنقید کوئی برائی نہیں ، تنقید ایک اعلیٰ نوعیت کا ذہنی عمل ہے۔ تنقید انسان کی فکری ترقی کے لیے ضروری ہے۔ جہاں تنقید نہیں وہاں فکری ترقی بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید کو امر ممنوع (taboo) قرار دینے کا نتیجہ سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہوگا کہ لوگوں کے درمیان بے تنقید حالت قائم ہو جائے۔ بلکہ عملاً جو کچھ ہوگا وہ یہ کہ لوگ ذہنی جمود میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اُن کے درمیان سوچنے کا عمل (thinking process) رک جائے گا۔ اور جس انسانی سماج میں سوچنے کا عمل رُک جائے وہ دھیرے دھیرے ایک ایسا سماج بن جائے گا جہاں لوگ جسمانی اعتبار سے بظاہر انسان دکھائی دیں گے ، مگر اپنی عقل و فہم کے لحاظ سے وہ حیوانی سطح پر ہوں گے۔ وہ اعلیٰ فکری ترقی سے محروم ہو کر رہ جائیں گے ، جب کہ اس دنیا میں اعلیٰ فکری ترقی ہی کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ بچوں کے لیے زیادہ بہتر تحفہ جو لوگ زیادہ بڑی ترقی حاصل نہ کر سکیں وہ اکثر اس احساس میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ کیا کریں کہ اُن کے بچے اُس معاشی کمی میں مبتلا نہ ہوں جس میں وہ خود مبتلا ہوئے۔ اس احساس کے تحت وہ ایک ایسی چھلانگ لگا دیتے ہیں جو نتیجہ کے اعتبار سے اُن کے لیے برعکس ثابت ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page