Al-Risala · August 2002 · page

جودھ پور کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں آج کل ہر جگہ گروپ بندی ہوتی ہے۔ آپ کا کسی ایک گروپ سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہو تو یہ گروپ آپ کا ساتھ دیتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کے مسئلہ کا ایک اور حل بھی ہے۔ وہ یہ کہ آپ گروپ کو ساتھ لینے کے بجائے خدا کو اپنے ساتھ لینے کی کوشش کریں۔ مثلاً آپ کے ڈیپارٹمنٹ کا ایک آدمی آپ کے خلاف ہو گیا اور آپ کو بدنام کرنا شروع کر دیا۔ تو آپ اس معاملہ میں گروپ سے مدد لینے کے بجائے خدا سے مدد لیجئے۔ وہ یہ کہ ایک طرف آپ خدا سے دعا کریں اور دوسری طرف قرآن (حم السجدہ (۳۴) کے فارمولا کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مخالف کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کا معاملہ کریں اور اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کا مسئلہ معجزاتی طور پر حل ہو گیا ہے۔

ایر پورٹ پر مسٹر راجیند رسنگھ سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وہ جے پرکاش نرائن کے بہت معترف تھے انہوں نے ۱۹۷۷ کے جے پی آندولن میں اُن کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔

گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ جے پرکاش نرائن ایک غم زدہ (sad) انسان کی حیثیت سے دنیا سے گئے۔ میں نے کہا کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جے پرکاش نرائن اپنے آپ کو ایک ناکام انسان سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ وہ ایک کامیاب انسان تھے۔ انہوں نے اپنے نان کانگریس ازم کے نشانہ کو اپنی زندگی میں پورا کیا۔

میں نے کہا کہ جے پرکاش نرائن کے اپنے نعرہ کے مطابق، اُن کا مشن پورن سوراج (ٹوٹل ریولیوشن) تھا۔ اُن کا نشانہ صرف کانگریس کو اقتدار سے ہٹانا نہیں تھا بلکہ اُس کے بعد ملک میں دوسرا زیادہ بہتر راج لانا تھا۔ جے پرکاش نرائن اپنے مشن کے سلبی پہلو میں تو کامیاب ہوئے مگر وہ اپنے مشن کے ایجابی پہلو میں مکمل طور پر نا کام ہو گئے۔ گویا اُن کا پورن سوراج صرف آدھا سوراج بن کر رہ گیا۔ مسٹر راجیند رسنگھ جے پی کے گہرے عقیدت مند تھے، اس لیے وہ یہ ماننے پر راضی نہ ہو سکے کہ جے پرکاش نرائن کا پورن سوراج صرف ابتدائی آدھے حصہ کے اعتبار سے کامیاب تھا اور بقیہ آدھے حصہ میں وہ پوری طرح ناکام رہا۔ اس طرح کی باتیں ہوتی رہیں یہاں تک کہ ایر پورٹ کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page