Al-Risala · August 2002 · page

جودھ پور کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

اناؤنسر نے اعلان کیا کہ جودھ پور کی فلائٹ روانگی کے لیے تیار ہے۔ چنانچہ ہم لوگ چل کر جہاز کے اندر داخل ہو گئے۔ جیٹ ایرویز ایک پرائیویٹ ایرویز ہے۔ ہندوستان میں پہلے ہوا بازی صرف سرکاری زمرہ سے تعلق رکھتی تھی۔ لبرلائزیشن کی پالیسی اختیار کرنے کے بعد بہت سی پرائیویٹ ہوائی کمپنیاں بنائی گئیں، مگر اُن میں سے اکثر ناکام رہیں۔ اب صرف چند کمپنیاں زندہ ہیں اور کامیابی کے ساتھ چل رہی ہیں۔ دہلی سے جودھ پور کے لیے روانگی ہوئی۔ پرواز کے دوران فلائٹ میگزین دیکھا۔ اس میں ایک معلوماتی مضمون شامل تھا جس کا عنوان یہ تھا: Foot prints in the snow میجر جنرل شرما نے علمِ گلیشیر (glaciology) میں اعلیٰ ڈگری سوئزر لینڈ سے حاصل کی ہے۔ وہ ہندوستانیوں کی اس ٹیم کے لیڈر تھے جو برفانی علاقہ کے مطالعہ کے لیے انٹارکٹکا گئی تھی۔ اُنہوں نے واپسی کے بعد اپنے تجربات کی بنیاد پر ایک کتاب لکھی جس کا نام یہ ہے: Breaking the Ice in Antarctica یہ مضمون اُن کی اس کتاب کا تعارف تھا۔ اس میں انٹارکٹکا کے بارے میں بہت سی باتیں بتائی گئی تھیں۔ مثلاً وہاں کا درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے ۸۹ درجہ نیچے ہوتا ہے۔ وہاں جو گھر بنائے جاتے ہیں وہ مسلسل متحرک رہتے ہیں۔ برفانی علاقہ کی چڑیاپنگوئن (Penguin) اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر انسانوں کے قریب آ کر بیٹھ جاتی ہے۔ جنرل شرما مہم پسند آدمی ہیں۔ وہ اکثر اس طرح کی مہموں میں جاتے رہتے ہیں۔ اس مضمون کا خاتمہ ان الفاظ میں کیا گیا تھا: For some men life is all about taking risks. کہا جاتا ہے کہ رسک کے بغیر کامیابی نہیں (No risk, no gain)۔ یہ اصول ہر آدمی کے لیے صحیح ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی آدمی جتنا بڑا رسک لینے کی ہمت کرے گا اتنی ہی بڑی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page