Al-Risala · August 2002 · page

جودھ پور کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

کامیابی اُس کو حاصل ہوگی۔ تاہم رسک کو منصوبہ بند رسک (calculated risk) ہونا چاہیے، نہ کہ بے سوچی سمجھی چھلانگ۔

پرواز کے دوران جہاز معمول سے کچھ زیادہ ہلتا رہا۔ میں نے سوچا کہ ہوائی جہاز کی ایجاد نے پہلی بار انسان کو ایک خلائی حقیقت کا عملی تجربہ کرایا ہے۔ زمین وسیع خلاء میں ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ یہ سفر رُکے بغیر مسلسل طور پر جاری ہے۔ مگر وسیع خلاء میں یہ تیز رفتار سفر اتنا زیادہ پرسکون ہے کہ انسان کو کبھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ ایک تیز رفتار سواری کے اوپر حالت سفر میں ہے۔ ہوائی جہاز کا سفر ایک انسان کو اس عظیم قدرت خداوندی کا عملی تجربہ کرا تا ہے کہ زمین کو کنٹرول کرنے والی ہستی کتنی عظیم طاقت کی مالک ہے۔ زمین بھی گویا ایک بہت بڑا ہوائی جہاز ہے۔ زمین اگر ہوائی جہاز کی طرح ہلتی رہتی یا اس کے ساتھ وہ معاملہ پیش آتا جس کو آپ ڈرافٹ، ڈاؤن ڈرافٹ کہا جاتا ہے تو اس کے اوپر زندگی گزارنا اتنا زیادہ مشکل ہو جاتا جس کا تصور ہی دہشت زدہ کرنے کے لیے کافی ہے۔

اسی طرح ہوائی جہاز اپنے سفر کے دوران نہایت تیز آواز نکالتا ہے۔ اگر اسی قسم کی آواز زمین میں ہوتی تو زمین پر اتنا زیادہ شور ہوتا کہ زمین پر کوئی بامعنی سرگرمی ہی ناممکن ہو جاتی۔ اسی طرح ہوائی جہاز کے وزن کا تقریباً تہائی حصہ پٹرول ہوتا ہے۔ اگر زمین کے ساتھ پٹرول جیسا کوئی ایندھن رکھنا ضروری ہوتا تو اِس کی وجہ سے اتنا بڑا مسئلہ پیدا ہوتا کہ زمین کا سارا نظام درہم برہم ہو جاتا۔ اس سفر میں مسٹر بابو لال شرما ایم اے برابر میرے ساتھ رہے۔ وہ ایک برہمن ہیں۔ مگر میں نے دیکھا کہ وہ اچھی اُردو بولتے ہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں اُن کے اندر نرم گوشہ (soft corner) ہے۔ مثلاً گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات، (جو ۲۷۷ فروری ۲۰۰۲ کو شروع ہوئے اور مئی ۲۰۰۲ کے وسط تک جاری رہے) کے معاملہ میں سب سے زیادہ قصوروار ہندوؤں کو ٹھہراتے تھے، وغیرہ۔

مزید بات چیت سے اندازہ ہوا کہ مسلمانوں کے بارے میں اُن کے اس دوستانہ مزاج کا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page