Al-Risala · January 2002 · page 36

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۶

ہے۔ وہ اسلام کے نام پر نعروں کی سیاست چلاتے رہے۔ مگر انہوں نے اسلام کو آج کے انسان کے لیے قابل فہم نہیں بنایا۔ اسی کے ردعمل میں سیکولر طبقہ پیدا ہوا۔

میرے ساتھ الرسالہ کی انگریزی مطبوعات تھیں وہ یہاں کے تعلیم یافتہ لوگوں میں دی گئیں ۔ اکثر لوگوں نے خود ان کتابوں کی خواہش ظاہر کی۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں: پروفیسر غلام اعظم خاں، ائر مارشل اصغر خاں، مسٹر شہر یار کبیر، پروفیسر ریاض پنجابی، پروفیسر عالیہ امام، ڈاکٹر محمد نصیر الدین، مسٹر ہرن موائے کالیکر، ڈاکٹر شمبھو پرشاد، پروفیسر حمزہ علوی، مسٹر محمد حسن، وغیرہ۔

پاکستان سے آنے والے پروفیسر دانی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ان کی تعلیم بنارس ہندو یونیورسٹی میں ہوئی ۔ ایک روز وہ بنارس کے وشو ناتھ مندر میں گئے ۔ وہاں ان کے ماتھے پر تلک کا لال نشان لگا دیا گیا۔ اس کے بعد وہ قریب کی مسجد میں گئے تو وہاں ان کو یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ تم ہندو ہو۔ وہ باہر گئے اور ماتھے کا لال نشان دھو کر دوبارہ مسجد میں آئے تو انہیں مسجد میں داخلہ کی اجازت مل گئی۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بھی کیسا عجیب مذہب ہے کہ بدن کے کسی حصہ پر ایک نشان لگ جائے تو آدمی کسی اور مذہب کا بن جائے اور اگر وہ نشان پانی سے دھو دیا جائے تو وہ دوسرے مذہب کا ہو جائے۔

نیپال سے آئے ہوئے ایک ڈیلی گیٹ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’ہندو نیپال‘‘ میں مسلمان سیکولر ہندوستان سے زیادہ محفوظ ہیں:

Muslims in Hindu Nepal are more safe than in secular India. میں نے کہا کہ یہ ایک غلط تقابل ہے۔ یہ تقابل اس وقت درست ہوتا جب کہ نیپال کے مسلمانوں نے تقسیم کی تحریک چلا کر نیپال کو دو ٹکڑے کیا ہوتا۔ جب وہ جلسہ جلوس کی سیات چلا کر نیپال کے ہندوؤں سے رقیبانہ اور حریفانہ تعلق قائم کر لیتے۔ جب کہ نیپال میں یہ کہانیاں ہوتیں کہ مسلم حکمرانوں نے مندر کو توڑ کر مسجد بنا لیا، وغیرہ۔ موجودہ نیپال اس قسم کی تمام باتوں سے خالی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page