جودھ پور کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
سبب یہ ہے کہ وہ پرانی دہلی میں مسلم علاقہ میں پیدا ہوئے ۔ اُن کی تعلیم بیگ صاحب کے اسکول (رو دگراں) اور دہلی کالج (اجمیری گیٹ) میں ہوئی ۔ وہ میر مشتاق اور نور الدین بیرسٹر اور دوسرے مسلمانوں سے کافی قریب رہے۔
میرا تجربہ ہے کہ انڈیا کے ہندوؤں میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ ہندو جن کو مسلمانوں کے درمیان رہنے کا موقع ملا، جنہوں نے مسلمانوں کو براہ راست تعلق کے ذریعہ دیکھا اور جانا۔ دوسرے ہندو وہ ہیں جو مسلمانوں کو صرف اخبار یا میڈیا کی خبروں اور رپورٹوں کے ذریعہ جانتے ہیں۔ پہلی قسم کے ہندو عام طور پر مسلمانوں کے لیے دوستانہ اور ہمدردانہ جذبات رکھتے ہیں۔ البتہ دوسری قسم کے ہندو مسلمانوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے، وہ مسلمانوں کے متعلق طرح طرح کی بدگمانیوں میں مبتلا ہیں۔
میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس تجربہ کی روشنی میں غور کیجئے تو ۱۹۴۷ سے پہلے جن مسلم لیڈروں نے ہندو۔ مسلم مسئلہ کا حل دو قومی نظریہ اور علیحدگی میں تلاش کیا، اُس کا زیادہ بہتر حل یک قومی نظریہ اور اتحاد میں تھا۔ یعنی اُن کو چاہئے تھا کہ وہ مسلمانوں کو یہ مشورہ دیں کہ تم لوگ زیادہ سے زیادہ ہندوؤں کے ساتھ مل جل کر رہو۔ تمہاری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہندو تم کو صرف میڈیا کے ذریعہ نہ جانیں بلکہ براہ راست عملی تعلقات کے ذریعہ جانیں۔ ایسا کرنے کی صورت میں سارا انڈیا مسلمانوں کے لیے گویا عظیم تر پاکستان ہوتا۔ اقبال جغرافیائی تقسیم اور پاکستان کے حامی تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ اقبال خود اپنے ایک شعر کے مطابق، ایک نادان انسان قرار پاتے ہیں:
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے قومیت کے مسئلہ پر ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آزادی سے پہلے برصغیر ہند میں اس مسئلہ پر دو نقطہ نظر تھے۔ ایک اقبال کا۔ اُن کا کہنا تھا کہ قومیت کا تعلق مذہب سے ہے۔ دوسرا نظریہ مولانا حسین احمد مدنی کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ یعنی عقیدہ کا تعلق مذہب سے ہے اور قومیت کا تعلق وطن سے۔ میرے نزدیک مولانا حسین احمد مدنی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues