Al-Risala · August 2002 · page

جودھ پور کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

کا نظریہ درست تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب کے اعتبار سے ساری دنیا کے مسلمانوں کا ایک مذہب ہے۔ مگر جہاں تک قومیت کا سوال ہے، اس کا تعلق وطن (homeland) سے ہے، یعنی جس مسلم گروہ کا جو وطن ہے وہی اُس کی قومیت ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان جیسے ملک پر اگر کوئی مسلم ملک حملہ کرے تو یہ حملہ مسلمانوں کے مذہب پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ اُن کے مشترک وطن پر حملہ قرار پائے گا۔ وطن کے خلاف جارحیت کے معاملہ میں مسلمان بھی اُسی طرح دفاع کریں گے جس طرح اُن کے غیر مسلم برادران وطن کریں گے، خواہ یہ حملہ بظاہر کسی مسلم ملک نے کیا ہو یا غیر مسلم ملک نے۔

ڈیڑھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز ساڑھے گیارہ بجے جو دھ پور ایئر پورٹ پر پہنچا۔ حسب معمول میرے ہاتھ میں صرف ایک چھوٹا بیگ تھا۔ میں نے کوئی سامان بک نہیں کرایا تھا۔ اس لیے کنویر بیلٹ (conveyer belt) پر کھڑے ہونے کی تاخیر کے بغیر میں باہر آ گیا۔ یہاں ہمارے میزبان موجود تھے۔ اُن کے ساتھ قیام گاہ کی طرف روانگی ہوئی۔

راستہ میں جودھ پور کے مختلف حصوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ جودھ پور کا شہر سنگی عمارتوں کے ایک جنگل کی صورت میں نظر آیا۔ البتہ درخت اور ہریا لی عام شہروں کی بہ نسبت کم تھی۔ دہلی کی طرح چوراہوں پر فقیروں کا گروپ بھی دکھائی نہیں دیا۔ سڑک نہ زیادہ اچھی تھی، نہ زیادہ خراب۔ اُس کی ظاہری صورت بتا رہی تھی کہ وہ ایک ایسا شہر ہے جو پانی کی کمی کے مسئلہ سے دوچار ہے۔ تاہم ایک چوک پر ایک فوارہ پانی کا بڑا گلدستہ بناتا ہوا دکھائی دیا۔

آخر کار ہماری گاڑی ایک گیٹ کے اندر داخل ہوئی۔ یہ سی اول فارم ہاؤس (Seoul Farm House) تھا جہاں میرے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ فارم ہاؤس جودھ پور شہر سے تقریباً بیس کلو میٹر دور واقع ہے۔ ہم لوگ اُس کے اندر داخل ہوئے تو گویا صحرا میں نخلستان کا منظر ہمارے سامنے تھا۔ خوبصورت مکانات کے ساتھ درختوں کی قطاریں، سر سبز لان، پھولوں کی کیاریاں، چڑیوں کی آوازیں، چاروں طرف دور تک کھلی فضا، یہ وہ ماحول تھا جس کے اندر سی اول فارم ہاؤس واقع تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page