Al-Risala · August 2002 · page

جودھ پور کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

فارم ہاؤس کی جس بلڈنگ میں مجھ کو ٹھہرایا گیا، اس میں جدید طرز کے بنے ہوئے چار وسیع کمرے تھے۔ دو کمرے نیچے اور دو کمرے اوپر۔ منتظمین نے مجھے بوڑھا سمجھ کر نیچے کا کمرہ دینے کا فیصلہ کیا۔ نیچے کے کمرہ میں پہلے سے ایک صاحب موجود تھے، اُس کو خالی کیا جانے لگا۔ مجھ کو معلوم ہوا تو میں نے فوراً منع کر دیا۔

میں نے کہا کہ اوپر کا کمرہ میرے لیے زیادہ اچھا ہے۔ آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ اوپر ٹھہرنے کی صورت میں مجھ کو سیڑھیوں پر چڑھنا اترنا ہوگا۔ مگر سیڑھیاں چڑھنا تو میری پسندیدہ ہابی (hobby) ہے۔ یہ میرے لیے ایک بہترین ورزش ہے۔

ہجری کیلنڈر کے لحاظ سے میری عمر تقریباً ۸۲ سال ہے۔ اس عمر میں عام طور پر لوگ آرام کو پسند کرتے ہیں۔ مگر میں خدا کے فضل سے مشقت کو پسند کرتا ہوں ۔ سیڑھیاں چڑھنا، اے سی اور کولر کے بغیر کمرہ میں رہنا، سادہ کھانا، روزانہ دیر تک ٹہلنا، اپنا کام خود کرنا، رات کو غیر آرام دہ بستر پر سونا، بے مسئلہ انسان بن کر رہنا، وغیرہ۔

جودھ پور موجودہ راجستھان کا ایک ضلع ہے۔ آزادی سے پہلے وہ راجپوتانہ کی ایک اسٹیٹ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جودھ پور کی بنیاد ۱۴۵۹ء میں ڈالی گئی۔ اُس کے بانی راؤ جودھا تھے جو اس علاقہ کے ایک راجپوت سردار تھے۔ موجودہ شہر جودھ پور قدیم ریاست جودھ پور کا مرکزی مقام تھا۔ اٹھار ہوں صدی کی ایک بلند دیوار اور دوسری تاریخی عمارتیں جودھ پور کے قدیم دور کی یاد دلاتی ہیں۔ یہاں ایک قدیم قلعہ بھی ہے جس کے اندر میوزیم واقع ہے۔ شہر کے شمال میں اب بھی کچھ کھنڈرات ہیں جو چوتھی صدی عیسوی کے مانڈو کی یادگار ہیں۔ یہ کھنڈر قدیم مارواڑ سلطنت کے بچے ہوئے آثار ہیں۔ جودھ پور موجودہ راجستھان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ جودھ پور کا واحد دریا لونی ہے۔ اُس سے جودھ پور کے جنوبی حصہ کی آبپاشی کی جاتی ہے۔ موجودہ مہاراجہ کے دادا نے گنگا سے ایک نہر نکال کر جودھ پور تک پہنچایا تھا۔ اس سے جودھ پور کے لوگوں کو پانی کے معاملہ میں کافی راحت ملی۔ ۱۰ مئی کی شام کو فارم ہاؤس کے ایک بڑے کمرہ میں ابتدائی میٹنگ ہوئی۔ اس میں موجودہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page