Al-Risala · August 2002 · page

جودھ پور کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

سیمینار کا تعارف کرایا گیا۔ بتایا گیا کہ راجستھان میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے ایک جل برادری قائم ہوئی ہے جو بڑے پیمانہ پر پانی کے انتظامات کر رہی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں اُس نے راجستھان میں پانچ ہزار سے زیادہ تالاب کھدائی کے ذریعہ بنائے ہیں۔ اس کام کے لیڈر مسٹر راجندر سنگھ ہیں۔ اُن کو اس کام پر ٢٠٠٢ء میں بین الاقوامی مگسی سے ایوارڈ(Magsaysay Award) دیا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ موجودہ سیمینار خاص طور پر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ مختلف مذاہب کے نمائندوں کو بلا کر پانی کے بارے میں ہر مذہب کی رائے معلوم کی جائے۔ مقرر نے کہا کہ پانی انسانی زندگی کا بے حد اہم حصہ ہے۔ یقیناً ہر مذہب میں پانی کے بارے میں اعلیٰ ہدایات دی گئی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر مذہب کے لوگ اپنے مذہب کے حوالہ سے پانی کی خصوصی اہمیت کے بارے میں اپنا بیان دیں۔ اس سے پانی کے بارے میں ہماری تحریک کو خصوصی تقویت ملے گی۔

١٩٧٤ سے پہلے جودھ پور کے قریب بھاول پور ریاست تھی۔ بھاول پور کا ایک واقعہ یہاں قابل ذکر ہے۔ اس واقعہ میں سبق کے کئی پہلو ہیں۔ اس واقعہ کو مختصر طور پر یہاں درج کیا جاتا ہے۔ انگریزی دور کا واقعہ ہے۔ علاقہ بھاول پور کے ایک مسلمان نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک شخص کے ساتھ کیا۔ وہ شخص جلدہی بعد قادیانی ہو گیا۔ باپ نے لڑکی کی رخصتی سے انکار کیا۔ اس نے کہا کہ یہ شخص مرتد ہو گیا ہے، اس لیے مسلمان عورت اس کی زوجہ نہیں ہو سکتی۔ مذکورہ قادیانی نے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے بھاول پور کی عدالت سے رجوع کیا۔ سات سال تک یہ مقدمہ چلتا رہا۔ مسلمان لڑکی کی طرف سے ہندوستان کے بہت سے علماء عدالت میں بطور گواہ پیش ہوئے۔ ان میں سے ایک مولانا انور شاہ کشمیری (١٨٧٥۔ ١٩٣٢) بھی تھے۔ مولانا کشمیری نے پانچ دن تک اپنا بیان بند کرایا اور قادیانی وکیلوں کی جرح کے جوابات دئے۔ ٢٥ اگست ١٩٣٢ کو جسٹس محمد اکبر خاں نے مقدمہ کا فیصلہ دیا۔ انہوں نے نکاح کو مرتد قرار دیتے ہوئے مقدمہ کو خارج کر دیا۔ مولانا انوری صاحب مقدمہ بھاول پور کے موقع پر موجود تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ مولانا کشمیری نے قادیانیوں کے کفر پر تقریر کرتے ہوئے ایک بات یہ کہی کہ’’ جو چیز دین میں تواتر سے ثابت ہو، اس

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page