Al-Risala · August 2002 · page

جودھ پور کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

کا منکر کافر ہے۔ اس پر قادیانیوں کے گواہ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا: ”آپ کو چاہیے کہ اس اصول کے مطابق ، امام رازی پر بھی کفر کا فتویٰ عائد کریں کیوں کہ فواتح الرحموت شرح مسلّم الثبوت میں علامہ بحر العلوم نے لکھا ہے کہ امام رازی نے تواتر معنوی کا انکار کیا ہے۔ مولانا انوری صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس وقت عدالت میں بہت سے علماء موجود تھے۔ سب کو پریشانی ہوئی۔ فواتح الرحموت اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھی اس لیے ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ اس کا جواب کس طرح دیا جائے۔ اس حیرانی کے عالم میں مولانا کشمیری اٹھے اور با آواز بلند کہا: جج صاحب لکھئے: میں نے ۳۲ سال ہوئے یہ کتاب دیکھی تھی۔ اس وقت ہمارے پاس یہ کتاب نہیں ہے۔ امام رازی نے دراصل یہ لکھا ہے کہ حدیث لا تجتمع امتی علی الضلالۃ تواتر معنوی کے رتبہ کو نہیں پہنچتی۔ لہذا انہوں نے اس حدیث کے لیے تواتر معنوی کا انکار کیا ہے، نہ کہ خود تواتر معنوی کے حجت ہونے کا۔ ان صاحب نے حوالہ پیش کرنے میں دھوکہ سے کام لیا ہے۔ ان سے کہیے کہ وہ اصل عبارت یہاں پیش کریں۔

اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے غلط حوالہ دینا بلا شبہہ ایک اخلاقی جرم ہے اور اسی کے ساتھ بزدلی بھی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ یا تو چپ رہے یا اپنی غلطی کا سیدھی طرح اعتراف کرلے۔ جودھ پور کی کانفرنس میں میرے سوا کچھ اور مسلمان بھی آئے تھے۔ اُن لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ ایک صاحب جو ریٹائر ڈ پروفیسر تھے، انہوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ مجھے اپنی زندگی میں صرف ایک افسوس (regret) ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ریسرچ کے لیے امریکا گیا۔ وہاں میرے یہودی پروفیسر نے مجھے مشورہ دیا کہ تم اسلام اور کمیونزم پر ریسرچ کرو۔ مگر میں نے اس موضوع کو نہیں لیا۔ اس کے بجائے میں نے جغرافیہ کے ایک موضوع پر ریسرچ کی۔

میں نے کہا کہ آپ کو اس پر افسوس کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں اس موضوع کو لیتا تو مجھ کو یہ موقع ملتا کہ میں معاشیات کے بارے میں اسلام کے تصور مساوات اور کمیونزم کے تصور مساوات کا تقابل کروں۔ میں نے پروفیسر صاحب سے کہا کہ میں نے اسلام اور کمیونزم دونوں کو پڑھا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page