Al-Risala · August 2002 · page

صبر تلخ است وليكن بر شیریں دارد

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

ہے ۔ میرے مطالعہ کے مطابق، معاشی مساوات کی تعلیم نہ اسلام میں ہے اور نہ کمیونزم (حسب تشریح کارل مارکس) میں ۔ میری بات سن کر وہ خاموش ہوگئے ۔

میں نے کہا کہ میں نے کمیونزم کو سمجھنے کے لیے دس ہزار صفحات پڑھے ہیں۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ کمیونزم کا مقصد معاشی مساوات کو قائم کرنا نہیں ہے بلکہ مارکسی تشریح کے مطابق، معاشی استحصال (exploitation) کو ختم کرنا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، اسلام معاشی مساوات کا مبلغ نہیں۔ کیونکہ معاشی مساوات ایک غیر فطری تصور ہے جو عملاً ممکن ہی نہیں۔ اسلام کا معاشی نشانہ در اصل دولت کی یک طرفہ گردش کوروکنا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ (الحشر ۷)

ایک اور مسلمان بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پہلے مجھے نہیں پہچانا تھا۔ بعد کو معلوم ہوا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میں ماہنامہ الرسالہ پڑھتا رہا ہوں۔ اس کے بہت سے شمارے میرے پاس محفوظ ہیں ۔ اور میں اکثر انہیں دیکھتا رہتا ہوں ۔ اور اُن سے معرفت اور سبق حاصل کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ مسائل کے ضمن میں جو بات کہتے ہیں وہ بظاہر کڑوی گولی معلوم ہوتی ہے ۔ مگر اپنے انجام کے اعتبار سے وہ ایک میٹھی خوراک ہے :

صبر تلخ است وليكن بر شیریں دارد

۱۰ مئی کی شام کو آٹھ بجے جودھ پور کے چو پاسنی اسکول میں افتتاحی اجلاس ہوا۔ یہ ایک تاریخی اسکول ہے جس کو آزادی سے پہلے مہاراجہ جودھ پور نے بڑے ذوق وشوق کے ساتھ بنوایا تھا۔ اُس کے وسیع اور پر شکوہ ہال میں نشست ہوئی ۔ میں ہال کے اندر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک باہر سے شہنائی کی آواز آنے لگی۔ کچھ دیر کے بعد مہاراجہ جودھ پور اپنے آدمیوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے ۔ معلوم ہوا کہ ریاست اگرچہ ختم ہوچکی ہے مگر مہاراجہ کے قدیم آداب ابھی تک باقی ہیں۔

مہاراجہ جودھ پور کی نشست ٹھیک میرے دائیں طرف تھی۔ اُن کی عمر صرف ۵۵ سال ہے۔ مگر میں نے دیکھا کہ اُن کے پاس ایک اگال دان رکھا ہوا ہے ۔ وہ بار بار اس میں اپنا گلا صاف کر

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page