صبر تلخ است وليكن بر شیریں دارد
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
رہے بیس اور ایک ہاتھ میں ٹشو پیپر (tissue paper) ہے جس سے وہ اپنا منھ صاف کرتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ مہاراجہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی جسمانی عوارض سے پاک ہو۔ اگر فرق ہے تو صرف یہ کہ عام آدمی سستے قسم کا اگال دان استعمال کرے گا اور نواب یا مہاراجہ چاندی اور سونے کا اگال دان۔
یہاں مسٹر راجیند رسنگھ سے ملاقات ہوئی۔ وہ پہلے گورنمنٹ میں پروجیکٹ افسر تھے۔ چھ سال سروس کرنے کے بعد انہوں نے استعفادے دیا۔ راجستھان میں پانی کی زبردست کمی ہے۔ انہوں نے اس کمی کو دور کرنے کو اپنی زندگی کا مشن بنالیا۔ وہ ہیں سال سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے راجستھان کے مختلف دیہاتوں میں رضا کارانہ محنت کے ذریعہ ساڑھے پانچ ہزار تالاب کھود کر تیار کرائے ہیں۔ انہوں نے راجستھان کو پانی مہیا کرنے کے لیے عوام کی مدد سے ایک پوری تحریک چلا رکھی ہے۔ یہ پورا کام حکومت کی مدد کے بغیر ہو رہا ہے۔
ہندو اس قسم کے رفاہی کام بہت بڑے پیمانہ پر کر رہے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ اس ملک میں ہندو اور عیسائی وغیرہ بڑے پیمانہ پر سوشل سروس کا کام کرتے ہیں۔ مگر مسلمانوں میں سوشل ورک کا رواج نہیں۔ مسلم لیڈروں کو صرف ایک ہی کام معلوم ہے، اور وہ ہے، اپنے فرقہ کے بارے میں شکایتی جلسہ کرنا، اپنے فرقہ کی حق تلفی کے نام پر احتجاجی مظاہرہ کرنا۔ اس کے باوجود مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خیر امت ہیں۔ حالاں کہ حدیث میں آیا ہے کہ خیر الناس من ينفع الناس۔ اس کے مطابق، خیر امت کا کام دوسروں کو نفع پہنچانا ہونا چاہئے، نہ کہ اپنے نقصان کے نام پر آندولن چلانا۔
11 مئی کو میں صبح سویرے اٹھا۔ اوّل وقت پر فجر کی نماز پڑھی۔ یہ نہایت سہانا وقت تھا۔ چاروں طرف فطرت کی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اس میں صرف چڑیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ میں نیچے اترا تا کہ کھلے میدان میں کچھ دیر چہل قدمی کروں۔ نیچے آیا تو یہاں ایک صاحب ایک چھوٹی میز کے سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ صبح کی چائے کا اہتمام کر رہے تھے۔ انہوں نے آواز دے کر مجھے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues