صبر تلخ است وليكن بر شیریں دارد
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
بلایا اور چائے کی پیشکش کی۔ میں کچھ دیر کے لیے اُن کے پاس بیٹھ گیا۔
یہ ایک ریٹائرڈ پروفیسر تھے۔ بات چیت کے دوران میں نے پوچھا کہ آپ اپنی زندگی کے کچھ تجربات بتائیے۔ عجیب بات ہے کہ وہ کوئی خاص تجربہ نہ بتا سکے۔ بس یہ بتایا کہ میں صبح کی چائے کا عادی ہوں اور خصوصی اہتمام کے ساتھ خود اپنے ہاتھ سے چائے بناتا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں لوگوں کا ساتھ دینے کے لیے چائے پی لیتا ہوں مگر میں چائے کا عادی نہیں۔ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، مجھے چائے کا خصوصی ذوق نہیں۔
میں نے کہا کہ میں کسی بھی چیز، بشمول چائے کا عادی نہیں ہوں۔ اس طرح کی عادتیں میرے نزدیک ایک قسم کے ذہنی انتشار (distraction) کا سبب بنتی ہیں۔ میں نے کہا کہ میں اپنے لیے جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہوں وہ یہ کہ میرے ذہن میں سوچ کا عمل (thinking process) کسی روک کے بغیر مسلسل جاری رہے۔ صحت مند فکری عمل کو میں کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتا ہوں ۔ تاہم میں نے محسوس کیا کہ مذکورہ پروفیسر صاحب کو اس قسم کی سنجیدہ باتوں سے غالباً زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ چنانچہ کچھ دیر کے بعد میں وہاں سے اُٹھ گیا اور کھلے مقام پر جا کر ٹہلنے لگا۔ ٹہلنا، خاص طور پر صبح کے وقت ٹہلنا بہت مفید ہے۔ وہ جسمانی صحت کے لیے بھی مفید ہے اور ذہنی صحت کے لیے بھی۔ ڈیکنز (Dickens) نے درست طور پر کہا ہے کہ___ ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ چہل قدمی کرو اور خوش رہو، رہو،چہل قدمی کرو اور تندرست رہو: The sum of the whole is this: Walk and be happy. Walk and be healthy. مسٹر بابولال شرمانے بتایا کہ پرانی دہلی میں زیادہ عمر کے ایک ہندو ہیں۔ اُن کا نام روپ نرائن ہے۔ وہ کھلے طور پر کہتے ہیں کہ آج کے آزاد ہندوستان کے مقابلہ میں انگریزی دور کا ہندوستان زیادہ بہتر تھا۔ اس سلسلہ میں وہ اپنے بہت سے ذاتی تجربے بتاتے ہیں۔
مثلاً انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۲ء سے پہلے کے زمانہ میں میں پرانی دہلی کے علاقہ چرخی والان میں رہتا تھا۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ انگریز ڈپٹی کمشنر گھوڑے پر سوار وہاں سے گذر رہا ہے۔ میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues