Al-Risala · August 2002 · page

صبر تلخ است وليكن بر شیریں دارد

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

جا کر اُس کے گھوڑے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا کہ اس علاقہ کے لوگ دو چیزوں سے بہت پریشان ہیں۔ ایک، فلاں ہندو بنیا، وہ کم تولتا ہے اور اس طرح وہ لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ دوسرا مسئلہ یہاں کا ڈلاؤ ہے۔ یہاں بہت دنوں سے کوڑا پڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے بدبو پھیل رہی ہے۔ انگریز ڈپٹی کمشنر نے ٹھہر کر میری بات سُنی اور پھر کچھ جواب دیے بغیر آگے بڑھ گیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ اُسی دن شام کو پولیس آئی اور مذکورہ ہندو بنیا کو گرفتار کر کے لے گئی۔ دوسری طرف اُسی دن شام کو میونسپلٹی کی گاڑی آئی اور ڈلاؤ کا سارا کوڑا اٹھا کر اس کو صاف کر دیا۔ روپ نرائن صاحب اس طرح کے واقعات بتا کر کہتے ہیں کہ آج اس طرح کے مسائل پہلے سے بھی زیادہ ہیں۔ مگر آج یہ حالت ہے کہ افسروں سے شکایت کیجیے اور دفتروں کا چکر لگایئے مگر کوئی ایکشن لینے والا نہیں۔ جودھ پور کے سفر میں مجھ کو وہاں کے سی اول فارم ہاؤس (Seoul Farm House) میں ٹھہرایا گیا تھا۔ یہ جودھ پور شہر سے تقریباً بیس کلومیٹر دور ہے۔ درختوں کے ماحول میں بنا ہوا یہ خوبصورت فارم ہاؤس رہنے کے لیے آئیڈیل جگہ معلوم ہوتی ہے۔ پہلے دن جب میں یہاں آ کر ٹھہرا تو ایسا محسوس ہوا کہ گویا میں دنیا کی جنت میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ مگر ایک ہی دن کے قیام کے بعد طبیعت گھبرا گئی۔ میری ساری دلچسپی ختم ہوگئی۔ اس فارم ہاؤس میں میں ۱۰ مئی ۲۰۰۲ کو پہنچا تھا اور ۱۲ مئی ۲۰۰۲ء تک وہاں مقیم رہا۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جنتی زندگی کا حصول ممکن نہیں۔ اس دنیا میں خواہ کتنی ہی خوبصورت جگہ بنائی جائے مگر وہ انسان کو حقیقی خوشی نہ دے سکے گی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حقیقت کی طرف اس طرح اشارہ فرمایا ہے: اللهم لا عيش الا عيش الآخرة۔

جودھ پور کے فارم ہاؤس میں جب میں ٹھہرا ہوا تھا، وہاں ایک عجیب تجربہ ہوا۔ میں نے دیکھا کہ تمام لوگ صبح کو بہت دیر تک ایرکنڈیشڈ کمروں میں سوتے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ سورج نکل آتا تھا۔ حالاں کہ ان کمروں کے باہر فطرت کے مناظر اور صبح کی خوش گوار ہوا موجود ہوتی تھی۔ چڑیوں کے نغمے سنائی دیتے تھے۔ میں اپنی عادت کے مطابق، صبح سویرے اُٹھتا اور اوّل وقت میں فجر کی نماز پڑھ کر

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page