Al-Risala · August 2002 · page

صبر تلخ است وليكن بر شیریں دارد

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

باہر ٹہلنے لگتا۔ میں نے سوچا لوگوں کا ذوق کتنا زیاہ بگڑا ہوا ہے۔ وہ مصنوعی تمدن میں جیتے ہیں۔ فطرت کی حسین تر دنیا اُن کے آس پاس موجود ہوتی ہے مگر وہ اُس سے محظوظ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ بدذوقی کی کیسی عجیب مثال ہے۔

جودھ پور کے زمانہ قیام میں بہت سے لوگوں سے بات چیت اور تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ فارم ہاؤس میں، اجتماع گاہ میں، نیز شہر کے اندر۔ ان گفتگوؤں کا ایک خلاصہ اس سفر نامہ میں قارئین کو ملے گا۔ ان گفتگوؤں کا تعلق ہر قسم کے معاملات سے تھا، مذہبی بھی اور عملی بھی اور قومی بھی۔ کچھ لوگوں نے میرا پتا لکھا اور بعد کو بھی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہاں ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں کا کوئی ملی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ فوراً جلسہ جلوس کی صورت میں دوسروں کے خلاف تحریک چلانے لگتے ہیں۔ مثلاً شاہ بانو کی تحریک، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے ملی مسائل کو داخلی کوشش سے حل کریں۔ جیسا کہ امریکہ وغیرہ میں وہاں کے مسلمان بالفعل کر رہے ہیں۔ جہاں تک عوامی تحریک کا تعلق ہے، وہ صرف مشترک ملکی ایشوز پر چلائی جائے۔

سنجیدہ انسان اور غیر سنجیدہ انسان کی ایک پہچان یہ ہے کہ کہ سنجیدہ انسان غلطی کو اپنے اندر ڈھونڈھتا ہے اور غیر سنجیدہ انسان غلطی کو دوسروں کے اندر تلاش کرتا ہے۔ ایک بار میں ریڈیو سن رہا تھا۔ اُس میں ایک فلم اسٹار کا انٹرویو آنے لگا۔ انٹرویو رنے پوچھا کہ اپنی فلمی زندگی کا کوئی واقعہ بتائیے۔ اُس نے کہا کہ ایک بار میں ایک فلم میں ایک شخص کا رول ادا کر رہا تھا۔ یہ ایک ایسا شخص تھا جو جسمانی اعتبار سے بڑا ہو چکا تھا مگر اسی کے ساتھ وہ ذہنی معذور (mental handicap) تھا۔ ریکارڈنگ شروع ہونے کے کچھ دیر بعد ڈائرکٹر نے ریکارڈنگ رکوادی۔ میں حیران ہو کر ڈائرکٹر کے پاس گیا اور اُس سے سبب پوچھا۔ ڈائرکٹر نے کہا کہ تمہارا رول مجھے کچھ ٹھیک معلوم نہیں ہو رہا ہے۔ فلم ایکٹر نے اس کے بعد ڈائرکٹر کے خلاف سوچنے کے بجائے خود اپنے خلاف سوچنا شروع کر دیا۔ وہ کمرہ میں گیا اور وہاں اُس نے اپنے آپ کو آئینہ میں دیکھا۔ اب اُس نے اپنی غلطی دریافت

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page