Al-Risala · January 2002 · page 37

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۷

ہے اس لیے اس کا تقابل موجودہ ہندوستان سے درست نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ آپ ہندوستان میں نیپال جیسی فضا بنا دیجئے، اس کے بعد آپ کو دونوں ملکوں میں کوئی فرق دکھائی نہ دے گا۔ بنگلہ دیش کے اس سفر میں وہاں کے ایک مسلم نو جوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ روانی کے ساتھ اردو بولتے تھے اور ان کے خیالات بھی نسبتاً معتدل تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ اتنی صاف اردو کیسے بولتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے میں صرف بنگلہ زبان جانتا تھا اور اردو سے بالکل نا واقف تھا۔ اس کے بعد میں تعلیم کے لئے دہلی گیا اور وہاں چند سال رہ کر جامعہ ملیہ کے اسلامک اسٹڈیز میں باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ اس قیام کے دوران میں نے اردو زبان سیکھ لی۔ مزید یہ کہ دہلی جانے سے پہلے میرے خیالات میں جو شدت تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔ اس تجربہ کے بعد مجھے پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ایوب خاں کی بات یاد آئی۔ انہوں نے اپنی کتاب آقا نہیں، دوست (friends, not masters) میں لکھا تھا کہ مشرقی پاکستان ۲۵ سال کے اندر الگ ہو جائے گا۔ اس انجام سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے لوگوں میں انٹیگریشن (integration) پیدا کیا جائے۔ اس سلسلہ میں ان کا ایک منصوبہ یہ تھا کہ پاکستان میں بڑے پیمانہ پر ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی بنائی جائے ۔ اس میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے نوجوان ایک ساتھ تعلیم حاصل کریں۔ اس میں تعلیم پا کر دھیرے دھیرے ایک نئی نسل پیدا ہوگی، اور دونوں نسل کے درمیان وہ بعد بڑی حد تک ختم ہو جائے گا جوان کے درمیان آج پایا جاتا ہے۔

محمد ایوب خاں اس معاملہ میں اتنے زیادہ سنجیدہ تھے کہ انہوں نے پاکستان کے اسلام پسند لیڈروں کو یہ پیش کش کی کہ پاکستانی حکومت ایک اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹی قائم کر کے اس کا مکمل انتظام آپ کے حوالہ کر دے گی۔ آپ لوگ اس یونیورسٹی کو چلائیں اور اس کے ذریعہ ایک نئی نسل پیدا کریں۔ مگر یہ اسلام پسند لیڈر جو میرے نزدیک تدبر کی صفت سے خالی تھے وہ اس منصوبہ کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے منصوبہ کو چھوڑ کر نام نہاد اسلامی سیاست چلائی اور مس

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page