صبر تلخ است وليكن بر شیریں دارد
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
کر لى۔ اُس کو معلوم ہوا کہ آج صبح وہ تاج محل سیلون میں جا کر اپنے بال درست کروائے اور شیمپو لگوایا تھا۔ اس کی وجہ سے اُس کا چہرہ اچھا تو دکھائی دینے لگا مگر وہ اپنا مطلوب رول کرنے کے قابل نہ رہا، کیوں کہ فلمی رول میں اُس کو ایک کم عقل انسان کا رول ادا کرنا تھا، نہ کہ ہوش مند انسان کا۔ اس کے بعد فلم ایکٹر نے ایک قینچی لی اور وہ کام کیا جس کو وائلڈ ہیر کٹ (wild hair-cut) کہا جاتا ہے۔ اُس نے آئینہ دیکھے بغیر بے ترتیب طور پر اپنے بال ادھر اُدھر سے کاٹ لیے اور پھر اپنے بالوں میں مٹی لگالی۔ اس کے بعد دوبارہ جب وہ اپنا رول کرنے کے لیے آیا تو فلم ڈائریکٹر بہت خوش ہوگیا۔ اس نے کہا کہ اب تم اپنے رول کے لیے پوری طرح موزوں ہو۔
کامیاب انسان وہ ہے جو غلطی پیش آنے کے بعد اُس کا سبب دوسروں کے اندر تلاش نہ کرے بلکہ غلطی کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے۔ جس آدمی کے اندر یہ صفت ہو، وہی سنجیدہ انسان ہے اور ایسا ہی انسان موجودہ دنیا میں اعلیٰ کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنی غلطی کا الزام دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کریں وہ اپنے اس عمل کے ذریعہ اپنے آپ کو غیر سنجیدہ انسان ثابت کرتے ہیں۔ ایسے لوگ کبھی کسی اعلیٰ کامیابی تک پہنچنے والے نہیں۔
کچھ لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آزادی کے بعد کے زمانہ میں ہندوستان کے مسلمانوں کو عام طور پر ایک قسم کا بوجھ (liability) سمجھا جانے لگا۔ مگر آزادی سے پہلے کے دور میں وہ اس ملک میں ایک سرمایہ (asset) کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس سلسلہ میں میں نے سوامی وویکانند کا تجربہ بتایا۔
سوامی وویکانند ایک مشہور ہندو پیشوا ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ایک بار ایک مسلم فقیر نے اُن کی جان بچائی جس کا نام ذوالفقار علی تھا۔ سوامی وویکانند نے اعتراف کیا ہے کہ وہ کچھ مسلمانوں سے ملے جنہوں نے اُن کے روحانی اُفق میں اضافہ کیا۔ وہ اس حقیقت سے بہت متاثر تھے کہ قرآن ہزار سال سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود اپنے ابتدائی متن کو پوری طرح باقی رکھے ہوئے ہیں: Vivakananda would often talk feelingly of a Muslim fakir, Zulfiqar Ali, who once saved his life. Vivekananda had several intellectual
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues