Al-Risala · August 2002 · page

Ideal cannot be achieved.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

encounters with muslim theologians and confessed to these having widened his spritual horizons. He was impressed by the fact that the Qur'an had retained its pristine purity despite the lapse of more than a thousand years. (The Times of India, New Delhi, 14 May 2002, P.10)

ایک صاحب جو انسانی حقوق (Human Rights) کے ایک گروپ سے تعلق رکھتے تھے، ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگ ہمیشہ معاملات کو آئیڈیل کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ معاملات کو پریکٹیکل کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے۔ کیونکہ اصل اہمیت اس بات کی نہیں ہے کہ جو کچھ ہوا اس کا خالص منصفانہ انداز سے تجزیہ کیا جائے۔ بلکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مسئلہ کا حل کیا ہے۔ اور مسئلہ کا حل ہمیشہ پریکٹیکل بنیاد پر نکلتا ہے، نہ کہ آئیڈیل بنیاد پر۔

وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی تھے۔ انہوں نے فوراً کہا کہ آئیڈیل سوسائٹی کہاں بنتی ہے۔ مشہور مقولہ ہے کہ آئیڈیل کبھی قابل حصول نہیں ہوتا۔

Ideal cannot be achieved.

یہی ذہین لوگوں کی کمزوری ہے۔ وہ جب کسی بات کو اپنے خلاف پاتے ہیں تو شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک نکتہ نکال کر بات کے رخ کو بدل دیتے ہیں۔ میں نے جو بات کہی تھی وہ آئیڈیل حل (ideal solution) کے بارہ میں تھی، نہ کہ آئیڈیل سماج (ideal society) کے بارہ میں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عمومی اور کلی معنوں میں آئیڈیل سماج کبھی بن نہیں سکتا، کیوں کہ فطرت کے قوانین کے تحت ایسا ہونا ممکن نہیں۔ لیکن کسی فرد یا گروپ کے لئے اس کے کسی مسئلہ کا حل اگر ممکن ہے تو وہ صرف پریکٹیکل بنیاد پر ممکن ہے، نہ کہ آئیڈیل کی بنیاد پر۔

یہاں ایک صاحب نے خاموش اکثریت (silent majority) کا ذکر کیا۔ اس سلسلہ میں میں نے بتایا کہ ہمارے یہاں ایک صاحب خاموش اکثریت کے نظریہ سے بہت متاثر تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ خاموش اکثریت کو ساتھ لے کر ملک و قوم کی تعمیر کا کام زیادہ مؤثر انداز میں کیا جاسکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page