Al-Risala · August 2002 · page

Ideal cannot be achieved.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

انہوں نے اس مقصد کے لیے ملک کا دورہ کیا۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ ملک بھر کا دورہ کرنے کے باوجود مفروضہ خاموش اکثریت سے اُن کی کہیں ملاقات نہ ہو سکی۔

خاموش اکثریت کا نظریہ، اس قسم کے دوسرے نظریات کی طرح صرف تعلیم یافتہ طبقہ کی ایک ذہنی اُپج سمجھا جاتا ہے کہ ملک میں بیشتر لوگ ملک اور قوم کے بارہ میں سنجیدہ سوچ اور تعمیری جذبہ رکھتے ہیں، اگرچہ وہ خاموش رہنے کی وجہ سے نمایاں نہیں ہوتے۔

یہ نظریہ صرف ایک خوبصورت مفروضہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل یہ ہے کہ وہ چیز جس کو خاموش اکثریت کہا جاتا ہے وہ زیادہ صحیح الفاظ میں، غیر جانبدار اکثریت (indifferent majority) ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کا واحد کنسرن ان کا ذاتی مفاد ہے۔ یعنی قومی معاملات سے غیر متعلق رہ کر ہر ممکن طریقہ سے کمانا اور اپنے بچوں کی بہتری کے لیے اُس کو خرچ کرنا۔ یہ اپنے خول (cell) میں رہنے والے لوگ ہیں، ان کو قومی معنوں میں خاموش اکثریت کہنا اُن کو ایسا کریڈٹ دینا ہے جس کے وہ مستحق نہیں۔ کوئی شخص اگر انسانیت کا حقیقی درد رکھتا ہو تو نفسیاتی اعتبار سے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ بس خاموش تماشائی بنا رہے۔ ۔

جودھ پور کے اجتماع میں کچھ مسلمان بھی آئے ہوئے تھے۔ ایک مسلمان نے مجھ سے ایک شکایت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلہ پر یہاں اتنا بڑا فنکشن کیا جا رہا ہے مگر مسلمانوں کے مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ایک مسلمان ایک ہندو کمپنی میں کام کر رہا تھا۔ ایک موقع پر اس نے مسلمانوں کی حمایت میں کچھ بات کہہ دی۔ اس کے بعد ایک وجہ نکال کر اُس مسلمان کو کمپنی کی سروس سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اب وہ مسلمان بے روزگاری کی حالت میں ہے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ صرف شکایت اور احتجاج کے انداز میں سوچنا جانتے ہیں۔ جب بھی اس قسم کا کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو فوراً منفی انداز اختیار کر لیتے ہیں۔ آپ کی یہی سوچ آپ کا اصل مسئلہ ہے۔ اس کے بجائے اگر آپ لوگ مثبت انداز اختیار کریں تو آپ جانیں گے کہ مسئلہ پیدا بھی ہوتا ہے ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page