Al-Risala · August 2002 · page

Ideal cannot be achieved.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

اور مسئلہ ختم بھی ہو جاتا ہے، بشرطیکہ اُس کو حکمت کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ میں نے کہا کہ میرے علم میں اس قسم کی بہت سی مثبت مثالیں ہیں۔ میں آپ کو ایک تازہ مثال بتاتا ہوں ۔ دہلی میں ایک مسلم نوجوان ہیں جن کا نام محمد خالد انصاری ہے۔ انہوں نے انگلش جزلزم میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد اُنہیں ایک بڑے انگریزی روزنامہ میں سروس مل گئی۔ چھ مہینہ پہلے اُنہیں اسی قسم کے ایک واقعہ کی بنا پر اخبار کی ملازمت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد اگر وہ جذباتی قسم کے مسلم لیڈروں سے رجوع کرتے تو اپنی عادت کے مطابق، وہ اُن سے کہتے کہ یہی تو ہمارا کہنا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس طرح وہ مسٹر خالد انصاری کو مایوسانہ سوچ کا تحفہ دے کر اُنہیں واپس کر دیتے ۔

مگر حسن اتفاق سے وہ میرے پاس آگئے۔ میں نے کہا کہ آپ ہرگز مایوس نہ ہوں اور دوبارہ کوشش (try, try, try again) کے اصول پر عمل کریں۔ اس کے بعد انہوں نے مذکورہ اخبار کے چیرمین سے ملاقات کی۔ چند ملاقاتوں کے بعد چیرمین نے اخبار کے ذمہ داروں کو ایک خط لکھ دیا کہ مسٹر خالد کو دوبارہ موقع دیا جائے۔

اس کے بعد مسٹر محمد خالد انصاری میرے پاس آئے۔ میں نے کہا کہ آپ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے دوبارہ نئے عزم کے ساتھ اخبار کا کام شروع کر دیجئے ۔ آپ کو اپنے سامنے صرف ایک بات رکھنا چاہئے، وہ یہ کہ آپ اتنا زیادہ محنت کے ساتھ کام کریں کہ آپ اخبار کی ضرورت بن جائیں ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ ان کو مذکورہ اخبار کے انٹرنیٹ شعبہ (Online tabloid) میں جگہ دی گئی۔

اُن کو ہر ہفتہ دو اسٹوری بنانا تھا۔ انہوں نے نہایت محنت کے ساتھ اپنا کام شروع کر دیا۔ روزانہ بارہ گھنٹے سے بھی زیادہ کام کر کے اپنی ہر اسٹوری کو اتنا دلچسپ اور معلوماتی بنایا کہ اُن کو ساری دنیا میں انٹرنیٹ پر کثرت سے پڑھا جانے لگا۔ چند دن پہلے محمد خالد انصاری نے مجھ کو بتایا کہ اُن کے باس (Boss) نے اُنہیں بلایا اور مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تمہاری اسٹوری ستر ہزار تک ہٹ (hit)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page