Al-Risala · August 2002 · page

Ideal cannot be achieved.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

ہورہی ہے، جب کہ تمہارے شعبہ کے دوسرے لوگوں کی کوئی اسٹوری اب تک پندرہ ہزار سے زیادہ ہٹ نہیں ہوئی۔

ہٹ کا مطلب ہے کہ کوئی اسٹوری جتنی بار پڑھی جائے اُتنا ہی وہ ہٹ ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی کسی کا راستہ بند نہیں ہوتا۔ جہاں بظاہر راستہ بند دکھائی دے، وہاں بھی آگے بڑھنے کے امکانات موجود ہوتے ہیں، بشرطیکہ آدمی ہمت نہ ہارے اور مثبت ذہن کے تحت نیا راستہ تلاش کرے۔ کسی بھی صورت حال میں آدمی کے لیے اصل مسئلہ اس کی اپنی منفی سوچ ہے، نہ کہ باہر کی کوئی رکاوٹ۔ زندگی کے ہر مرحلہ پر ہمیشہ کا ما لگا ہوتا ہے، زندگی میں کبھی فل اسٹاپ نہیں آتا۔ ایک مسلم بزرگ سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جنت کے بارے میں آج کل کے مسلمانوں میں ایسی باتیں پھیلی ہوئی ہیں جن کا جنت سے کوئی تعلق نہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑوں کا دامن تھام لو اور جنت کو یقینی بنالو۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ کچھ ظاہری اعمال ہیں جن میں پراسرار فضیلتیں چھپی ہوئی ہیں، بس ان اعمال کی شکلوں کو دہرالو اور جنت کے مستحق بن جاؤ۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاسی جہاد کا ہنگامہ کھڑا کرو اور تم سیدھے جنت میں پہنچ جاؤ گے، وغیرہ۔ مگر یہ تمام وہی چیزیں ہیں جن کو قرآن میں امانی (النساء ۱۲۳) کہا گیا ہے، یعنی خوش خیالیاں۔ جنت ایک حقیقی چیز ہے، اور جنت صرف حقیقی عمل کے نتیجہ میں ملے گی۔ خود ساختہ قسم کی خوش خیالیوں سے کسی کو جنت ملنے والی نہیں۔

جودھ پور کی کانفرنس میں اجمیر کے کچھ مسلمان بھی آئے تھے۔ ایک ہندو نے مجھ کو دیکھ کر کہا، کیا آپ اجمیر شریف سے آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ اُن سے گفتگو کے دوران ایک بات میری سمجھ میں آئی۔ وہ یہ کہ کیا وجہ ہے کہ ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں بزرگوں کی قبروں کی بہت زیادہ تعظیم کرتے ہیں، اُن سے مرادیں مانگتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں سجدہ کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page