Take it easy.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
گفتگو کے دوران اس کا راز میری سمجھ میں آیا۔ اصل یہ ہے کہ یہ ہندو اور مسلمان ان بزرگوں کی موت کو ’’وصال‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اُن کا عقیدہ ہے کہ یہ لوگ موت کے بعد خدا سے مل گئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ موت نے انہیں زیادہ اونچے مقام پر پہنچادیا ہے۔ پہلے اگر وہ بظاہر انسان تھے تو اب وہ خدا کے درجہ میں پہنچ گئے۔ اب انہیں مزید طاقت حاصل ہوگئی۔ وہ اس حیثیت میں ہوگئے کہ وہ ہماری مرادیں پوری کریں، وہ ہماری حاجتوں میں ہمارے کام آئیں۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر، وصال کا یہی نظریہ قبر پرستی کے پیچھے کام کر رہا ہے، حالانکہ اس نظریہ کی کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ اسلام میں وفات کا تصور ہے، نہ کہ وصال کا تصور۔
بابو لال شرما شکر کے مستقل مریض ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ اس سلسلہ میں ٹیبلٹ کا استعمال کرتے تھے۔ مگر اس سے فائدہ نہیں ہوا۔ اب وہ ڈاکٹر کے مشورہ کے مطابق، ہر دن دو بار انسولین کا انجکشن لیتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ صبح اور شام دونوں وقت وہ خود اپنے ہاتھ سے انجکشن لگاتے ہیں، یعنی ایک ہاتھ کے ذریعہ دوسرے ہاتھ میں۔
یہ منظر میرے لیے بڑا عجیب تھا۔ مگر میں نے دیکھا کہ وہ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے ایک ہاتھ میں سرنج لے کر دوسرے ہاتھ میں انسولین کا انجکشن لگا رہے ہیں اور اس طرح مطمئن ہیں جیسے کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ اپنی اس حالت کے باوجود کس طرح خوش اور مطمئن رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک انگریزی مقولہ کے مطابق ، میرا اصول یہ ہے کہ ــــ اس کو نارمل طور پر لو:
Take it easy.
یہ بلاشبہہ بہترین اصول ہے۔ زندگی میں ہر شخص کو ایسے تجربات سے دوچار ہونا پڑتا ہے جو اُس کو پسند نہیں ہوتے۔ اس قسم کی ناخوشگوار صورت حال ہر ایک کے ساتھ پیش آتی ہے۔ اب اگر اس کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ لیا جائے تو زندگی دو بھر ہو جائے گی ۔ ایسی حالت میں اس کا آسان حل یہ ہے کہ اس کو اپنے ذہن کا بوجھ نہ بننے دیا جائے، اُس کو اسی طرح معمول کی ایک چیز سمجھ لیا جائے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues