Take it easy.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
جس طرح دوسری بہت سی چیزوں کو ہر آدمی سمجھتا ہے۔
مسٹر راجیند رسنگھ جو بیس سال سے زیادہ مدت سے پانی کے انتظام (water resource) management کے شعبہ میں قابل تعریف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ملاقات میں بتایا کہ کئی لوگ اُن کے مخالف ہو گئے ہیں اور اُن پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ آپ بیرونی طاقتوں سے پیسہ لیتے ہیں۔ آپ مہاراجہ کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں، آپ سرمایہ داروں کے مفاد میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کے الزامات کی وجہ سے میں بہت پریشان رہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ الزام نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص کوئی اچھا کام کرتا ہے تو فطری طور پر وہ لوگوں کی نظر میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ میڈیا میں اس کا چرچا ہونے لگتا ہے۔ اس کو اسٹیج پر بلایا جاتا ہے۔ اس قسم کی چیزوں کو دیکھ کر اُن لوگوں کے دل میں جلن ہونے لگتی ہے جن کو یہ چیزیں نہیں ملیں۔ میں نے کچھ مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں آپ صرف ایک کام کیجیے، اور وہ یہ کہ کچھ نہ کیجیے۔ آپ سادہ طور پر، ایسے لوگوں کو نظر انداز کرتے رہیے۔ وہ کچھ بھی کہیں، آپ اُن کا کوئی جواب نہ دیجیے۔ آپ بس اپنا کام کرتے رہیے۔ اس کے بعد اس قسم کے لوگ خود ہی چپ ہو جائیں گے۔ میں نے اُن کو حالی کا یہ شعر سُنایا:
کیا پوچھتے ہو کیوں کر سب نکتہ چیں ہوئے چپ سب کچھ کہا انہوں نے پر ہم نے دَم نہ مارا مسٹر راجیند رسنگھ میرے مشورہ کو سن کر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آج آپ نے میرے سر کا بوجھ اتار دیا۔ انہوں نے دعوت دی کہ آپ دوبارہ راجستھان آئیے اور ہمارے کام کو قریب سے دیکھئے اور ہم کو مزید مشورے دیجیے۔
ایک صاحب نے گفتگو کے دوران کہا کہ میرے ذہن میں ایک سوال ہے۔ آپ اُن کا حل بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں یہ فرق کیوں ہے کہ ایک طرف غریب لوگ ہیں اور دوسری طرف امیر لوگ۔ اگر ایک ہی خدا سب کو بنانے والا ہے تو اُس نے یہ فرق کیوں رکھا۔ اٗس نے تمام لوگوں کو یکساں کیوں نہیں بنایا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues