Take it easy.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگ امیری کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور غریبی کو چھوٹی چیز۔ حالانکہ معاملہ اس کا الٹا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غریبی بڑی چیز ہے اور امیری چھوٹی چیز۔ میں نے کہا کہ انسان کی خوش قسمتی کو ناپنے کا معیار اگر یہ ہو کہ کون زیادہ اچھا کپڑا پہنے ہوئے ہے اور کس کا جسم زیادہ فربہ ہے تو زیادہ پیسہ والے لوگ خوش قسمت نظر آئیں گے۔ مگر زیادہ صحیح معیار یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ذہنی ارتقاء میں کون زیادہ آگے ہے۔
میں نے کہا کہ یہ عام مشاہدہ کی بات ہے۔ اور باقاعدہ سروے کے ذریعہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کم پیسہ والوں کا ذہنی ارتقاء زیادہ ہوتا ہے اور زیادہ پیسہ والوں کا ذہنی ارتقاء کم۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، امریکہ میں ایک نئی بیماری پیدا ہوئی ہے جس کا تعلق خوشحالی (affluence) سے ہے۔ اس لیے اُس کو افلوائَنزا (affluenza) کہا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جسمانی اعتبار سے فربہ مگر ذہنی اعتبار سے طرح طرح کی کمیوں کا شکار رہتے ہیں۔
جلسہ میں کچھ خاص لوگوں کو مہاراجہ جودھ پور نے خود اپنے ہاتھ سے ایک تحفہ دیا۔ یہ تحفہ ایک چادر اور ایک ناریل کی صورت میں تھا۔ ہندو روایات میں جب کسی کو عزت دینا ہو تو اٌس کو چادر اوڑھاتے ہیں۔ اِسی طرح ناریل ہندو روایات کے مطابق، ایک مقدس پھل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مندروں میں اکثر ناریل کا پھل چڑھایا جاتا ہے۔
واپسی میں ایک عجیب معاملہ پیش آیا۔ میں نے ناریل کو اپنے بیگ میں رکھ لیا تھا۔ جودھ پور ایر پورٹ پر چیکنگ ہوئی تو عملہ کے لوگوں نے ناریل کو بیگ سے نکال لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناریل آپ کو دہلی ایر پورٹ پر مل جائے گا۔ اس کا سبب غالباً یہ تھا کہ جہاز کو ہائی جیک کرنے والے دوسری چیزوں کے ساتھ، ناریل جیسی سخت چیز کو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ جہاز کے پائلٹ کو اس سے ڈرانے دھمکانے کا کام لے سکتے ہیں۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ خوشی کا کوئی تعلق دولت سے نہیں ہے۔ دولت آپ کو مادی ساز و سامان دے سکتی ہے مگر دولت آپ کو خوشی نہیں دے سکتی۔ لندن اسکول
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues