Al-Risala · August 2002 · page

Take it easy.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

آف اکنامکس کی قیادت میں ایک ریسرچ کی گئی ہے۔ اس ریسرچ کا موضوع یہ تھا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ خوشی کے اعتبار سے کون سا ملک کس درجہ پر ہے۔ اس ریسرچ کا جو نتیجہ چھپا ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشی کے اعتبار سے برطانیہ کے لوگ نمبر ۳۲ پر ہیں اور امریکہ کے لوگ نمبر ۲۶ پر اور ہندوستان کے لوگ نمبر ۵ پر۔

اس ریسرچ کی سب سے زیادہ دلچسپ اور سنسنی خیز بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام ملکوں میں سب سے زیادہ خوش رہنے والے لوگ وہ ہیں جو میںبنگلہ دیش میں رہتے ہیں۔ بنگلہ دیش کو عام طور پر سب سے زیادہ غریب ملک سمجھا جاتا ہے۔ مگر موجودہ سروے کے مطابق، بنگلہ دیش کے لوگ سب سے زیادہ خوشیوں میں جینے والے لوگ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ:

According to recent research led by the London School of Economics, the happiest place in the world is, would you believe?, Bangladesh. جون ۲۰۰۱ء میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش گیا تھا۔ اس دوران مجھے کچھ بنگلہ دیشی گھروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے پایا کہ وہاں گھر کا ہر فرد نہایت خوش تھا اور اکثر ہنستارہتا تھا۔ اس خوشی کا راز یہ تھا کہ اُن کے پاس جو کچھ تھا اُسی پر وہ مطمئن تھے۔ مزید کی حرص انہیں پریشان نہیں رکھتی تھی۔ میں نے دیکھا کہ میری تواضع کے لیے انہوں نے کوئی اہتمام نہیں کیا۔ جو کچھ گھر میں تھا بس اُسی کو انہوں نے بے تکلف پیش کر دیا۔ اُن کے گھر بھی نہایت سادہ تھے۔ ضرورت کے سوا کوئی اور چیز گھر کے اندر نظر نہ آئی۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ لوگ خدا کو ایک الگ اور مستقل شئے مانتے ہیں، کیا آپ خدا کا تجربہ کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہاں، میں تو تقریبا روزانہ ہی خدا کا تجربہ کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ اس تجربہ کو ہمیں دکھا سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک داخلی (subjective) تجربہ ہے، ایسے تجربہ کا مظاہرہ خارجی طور پر نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پھر ہم کیسے اس پر یقین کریں۔ میں نے کہا کہ آپ اور ہر شخص اپنے بیٹے سے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page