Al-Risala · August 2002 · page

Take it easy.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

محبت کرتا ہے۔ آپ کو بار بار اپنے بیٹے کی محبت کا قلبی تجربہ ہوتا ہے۔ کیا آپ اپنے اس تجربہ کو خارجی طور پر دکھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا تو ظاہری طور پر دکھائی دے رہا ہے، جب کہ خدا اس طرح ظاہری طور پر دکھائی نہیں دیتا۔

میں نے کہا کہ یہ صرف ایک مغالطہ ہے۔ آپ کا بیٹا بھی آپ کو دکھائی نہیں دیتا۔ آپ بیٹے کی جس چیز کو دیکھ رہے ہیں وہ اُس کا جسم ہے۔ اگر یہی جسم آپ کا بیٹا ہے تو مرنے کے بعد آپ اپنے اس بیٹے کو کیوں جلا کر پھینک دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا بیٹا ظاہری جسم کے ماوراء ایک ان دیکھی چیز ہے جو آپ کو ان آنکھوں سے نظر نہیں آتی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جس بیٹے کی محبت کا آپ تجربہ کر رہے ہیں، وہ بیٹا بھی اسی طرح دیکھنے میں نہیں آتا جس طرح خدا دیکھنے میں نہیں آتا۔ پھر جس طرح ایک باپ اپنے نہ دکھائی دینے والے بیٹے کی محبت کا تجربہ کرتا ہے، اسی طرح ایک مومن بھی ایک نہ دکھائی دینے والے خدا کے تعلق کا تجربہ کرتا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

جودھ پور کے اس سیمینار کے تین اجلاس ہوئے۔ دو چو پاسنی اسکول میں، اور ایک گیتا بھون میں۔ چو پاسنی اسکول مہاراجہ جودھ پور کا بنوایا ہوا ہے۔ یہ ایک محل نما عمارت میں واقع ہے۔ اُس کا ہال، جس میں سیمینار ہوا، غیر معمولی طور پر بڑا اور شاندار نظر آیا۔

ان اجتماعات میں ہر مذہب کے لوگ شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ علمی حلقوں کے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ہر ایک نے اپنی روایات کے پس منظر میں پانی کی اہمیت کو بیان کیا۔ مہاراجہ جودھ پور نے مارواڑی زبان میں تقریر کی، وہ پوری طرح میری سمجھ میں نہ آسکی۔ ہر مقرر نے اپنے اپنے نقطۂ نظر سے موضوع پر روشنی ڈالی۔ کچھ لوگوں نے علمی اسلوب میں تقریر کی۔ کچھ لوگوں نے قصے کہانیوں کے انداز میں خطاب کیا۔ ایک صاحب نے ایک قصہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک گرو کے دو شاگرد تھے۔ دونوں شاگرد گرو کے پاؤں کی سیوا کرتے تھے۔ دونوں نے گرو کا ایک ایک پاؤں بانٹ کر لے لیا تھا۔ ایک شاگرد داہنے پاؤں کی سیوا کرتا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page