ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۸
فاطمہ جناح کے ساتھ شامل ہو کر صدر محمد ایوب خاں کو سیاسی شکست دینے کی کوشش کی جس میں وہ مکمل طور پر نا کام رہے ۔ یہ نام نہاد اسلام پسند لیڈر جب صدر محمد ایوب کو انتخابی شکست دینے میں نا کام ہو گئے تو انہوں نے ان کے خلاف بد نامی اور تخریب کاری کی مہم چلا دی۔ یہاں تک کہ صدر ایوب کو صدارت سے ہٹنا پڑا، ایک تاریخ ساز منصوبہ پورا ہونے سے رہ گیا۔ ڈھاکہ کے انگریزی اور بنگلہ اخباروں میں کانفرنس کی رپورٹیں با تصویر تفصیل کے ساتھ شائع ہوئیں ۔ اخبار کے علاوہ ٹی وی پر بھی برابر اس کی خبریں آتی رہیں۔ بنگلہ ٹی وی نے میرا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہندوستان میں فرقہ واریت کا زور اب بہت کم ہو گیا ہے۔ انٹرویو ر نے کہا کہ آپ ایسا کیوں کہتے ہیں جب کہ ۱۹۹۲ میں انڈیا کے کٹر ہندوؤں نے بابری مسجد کو ڈھا دیا۔ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے مگر مسجد کے ڈھانے کے ساتھ انہوں نے خود اپنے آپ کو بھی ڈھا دیا:
Yes, they have demolished the mosque but along with it they have demolished themselves. ڈھاکہ کے مشہور بنگالی اخبار (Prothom Alo) نے میری تقریر کا خلاصہ شائع کیا۔ ۱۹۴۶ میں جب یہ فیصلہ ہو گیا کہ برصغیر ہند کو تقسیم ہونا ہے تو اس وقت مہاتما گاندھی نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) جانے کا فیصلہ کیا جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مارکاٹ شروع ہو گئی تھی۔ وہ لمبی مدت تک نواکھلی کے دیہاتوں میں گھوم کر لوگوں کو امن کا پیغام دیتے رہے۔ کسی نے کہا کہ آپ کا جو مشن ہے اس کے لئے آپ پاکستانی لیڈر محمد علی جناح سے کیوں نہیں ملتے ۔ گاندھی جی نے جواب دیا کہ لیڈر تو عوام کے تابع ہوتا ہے۔ عوام اگر امن پسند ہو جائیں تو لیڈر کو بھی امن پسند بننا پڑے گا۔ اس معاملہ میں صرف لیڈر سے ملنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی زمانہ میں ۵ دسمبر ۱۹۴۶ کو انہوں نے اپنے قلم سے یہ تاریخی الفاظ لکھے کہ : My present mission is the most difficult and complicated one of my life.....I am prepared for any eventuality. 'Do or die' has to be put to the test here. 'Do' here means Hindus and Musalmans should
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues