Al-Risala · August 2002 · page

Take it easy.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

تھا اور دوسرا شاگرد بائیں پاؤں کی سیوا۔

ایک بار ایسا ہوا کہ بائیں پاؤں کی سیوا کرنے والا شاگرد کہیں چلا گیا۔ دوسرے شاگرد نے اپنے حصہ کے مطابق، دائیں پاؤں کی سیوا کی۔ اس درمیان میں ایسا ہوا کہ گرو جی نے داہنی طرف کروٹ بدلی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بایاں پاؤں دائیں پاؤں کے اوپر آگیا۔ شاگرد کو برداشت نہیں ہوا کہ اُس کے حصہ کا پاؤں نیچے ہو اور دوسرے شاگرد کے حصہ کا پاؤں اوپر۔ چنانچہ وہ ایک لکڑی لایا اور گرو جی کے بائیں پاؤں پر زور سے مارا۔

اس کے بعد گرو جی نے اپنے شاگرد سے کہا کہ اے مورکھ، جس پاؤں کو تم نے مارا وہ بھی تو میرا ہی پاؤں تھا۔ اس قصہ کو بتا کر مقرر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ کچھ لوگ اتنے نادان ہوتے ہیں کہ وہ باتوں کو گہرائی سے نہیں سمجھتے۔ وہ ایک شخص کو گرو مانتے ہوئے بھی اُس کا پورا حق ادا نہیں کر پاتے۔ مقرر کی زبان سے اس فرضی قصہ کو سُن کر بہت سے لوگوں نے تالیاں بجائیں۔ مگر میں اس قسم کے استدلال سے مانوس نہیں ہوں۔ میرے نزدیک ایک حقیقی بات کو ثابت کرنے کے لیے ایک حقیقی واقعہ درکار ہے۔ ایک حقیقی دعویٰ کسی فرضی قصہ سے ثابت نہیں ہوتا۔

آج کل ایک مشہور تحریک چل رہی ہے جس کا نام آرٹ آف لیونگ (Art of Living) ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر لاکھوں لوگ اس تحریک سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس تحریک کے ایک خصوصی نمائندہ بھی جودھ پور کے سیمینار میں آئے تھے۔ اُن کو دو بار اسٹیج پر آنے کا موقع دیا گیا۔ دونوں بار اُنہوں نے صرف بھجن سنایا، اس کے سوا اور کوئی بات اُنہوں نے نہیں کی۔ جلسہ کے بعد میں نے اُن سے پوچھا کہ آرٹ آف لیونگ کا کچھ پتے مجھے بتائیے۔ اُنہوں نے جو کچھ بتایا اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ یوگا کے انداز میں کچھ جسمانی اکسرسائز کرنا۔ مثلاً سوچ کو روک کر اپنے ذہن کو خالی کر لینا۔ کچھ دیر کے لیے آنکھ اور ناک بند کر لینا، وغیرہ۔ اُن کے کہنے کے مطابق، یہ ورزشیں آدمی کے ٹینشن کو بالکل ختم کر دیتی ہیں۔

میں نے کہا کہ ٹینشن تو ایک ذہنی مسئلہ ہے۔ اِس کو آپ جسمانی ورزش کے ذریعہ کیسے ختم

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page