Al-Risala · August 2002 · page

Take it easy.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

سکتے ہیں ۔ ذہنی مسئلہ ذہنی عمل سے ختم ہوگا ، نہ کہ جسمانی عمل سے ۔ آرٹ آف لیونگ کے سینٹر دنیا بھر میں کھلے ہوئے ہیں ۔ یہاں لوگ ذہنی ٹینشن کے علاج کے لیے آتے ہیں ۔ یہاں مخصوص تربیت کے ذریعہ آدمی کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ذہنی ٹینشن کو اندر ہی اندر دبا دیں ۔ میں نے کہا کہ یہ تو ٹینشن کا علاج نہیں ہے بلکہ ایک قسم کا عملِ تخدیر (anaesthesia) ہے۔ ذہن کو سُن کرنا جراّحی (آپریشن) کے لیے مفید ہے، لیکن اگر اس طریقہ کو ٹینشن کے علاج کے لیے استعمال کیا جائے تو اُس کا نقصان یہ ہوگا کہ تفکیری عمل رک جائے گا اور آدمی کا بھرپور ذہنی ارتقاء نہ ہو سکے گا ۔

ایک صاحب نے کہا کہ واٹر ریسورس مینجمنٹ (water resource management) کے بارے میں اصولی رہنمائی گاندھیائی فلسفہ میں موجود ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے جو باتیں کہیں اُن میں سے ایک یہ واقعہ تھا کہ ایک بار سیوا گرام میں کچھ لوگوں نے کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد وہ اُٹھ کر اپنا ہاتھ دھونے لگے۔ وہ زمین پر پانی بہا رہے تھے۔

گاندھی جی نے کہا کہ دیکھیے ، یہاں بہت سے پیڑ پودے موجود ہیں۔ اگر آپ ان پیڑ پودوں کی جڑوں میں ہاتھ دھوئیں تو اس طرح آپ کا بہایا ہوا پانی دوبارہ استعمال ہو جائے گا۔ وہ گر کر ضائع نہیں ہوگا۔

اس سیمینار میں مجھ کو دوبارہ تقریر کرنے کا موقع ملا۔ مجھے پانی کی اہمیت پر اسلام کے حوالہ سے بولنا تھا۔ میں نے کچھ آیتوں اور حدیثوں کی روشنی میں تقریر کی، مثلاً : ۱۔ زندگی کے لیے پانی بے حد اہم ہے۔ قرآن کے مطابق، تمام زندہ چیزیں پانی سے بنائی گئی ہیں۔ (وجعلنا من الماء كل شيء حي)

۲۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ پسندیدہ صدقہ پانی کا صدقہ ہے (أَعْجَبُ الصدقة الماء)۔

۳۔ ایک اور روایت کے مطابق، آپ نے فرمایا کہ پانی سے کسی کو روکنا جائز نہیں (لا يحل منع الماء)۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page