Al-Risala · August 2002 · page

Take it easy.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

۴۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو بیچنے سے منع فرمایا (نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بيع الماء)۔

۵۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی میں پیشاب نہ کیا جائے (لايبال في الماء)۔ ۶۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ فضول خرچی کے ساتھ پانی بہا رہا ہے۔ آپ نے اس سے منع فرمایا اور کہا کہ پانی میں فضول خرچی نہ کرو خواہ تم بہتے ہوئے دریا کے کنارے ہو(ولو كنت علی نهر جار)۔

قرآن وحدیث کے ان حوالوں کی روشنی میں میں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ جب پانی کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ وہ مدارِ حیات ہے تو اُس کا تحفظ ہر لحاظ سے ضروری ہو جاتا ہے۔ پانی کو لوگوں تک پہنچانا صدقہ جیسے نیک عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پانی کی ضرورت ہر امیر و غریب کو ہے اس لیے اُس کی فراہمی مفت ہونی چاہئے۔ کوئی ایسی سرگرمی درست نہیں جو وہ چیز پیدا کرے جس کو پانی کی کثافت (water pollution) کہا جاتا ہے۔ پانی سے استفادہ کو ہر ایک کے لیے کھلا رہنا چاہئے، پانی پر روک ٹوک جائز نہیں۔ پانی کا استعمال انتہائی کفایت کے ساتھ ہونا چاہئے حتیٰ کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج ہونا چاہئے کہ پانی بظاہر زیادہ ہو تب بھی وہ اُس کا استعمال کفایت شعاری کے ساتھ کریں۔ پانی انسان جیسی مخلوق کے لیے بے حد اہم ہے۔ ہمارے جسم کا اسی فیصد سے زیادہ حصہ پانی ہوتا ہے۔ نیز جن چیزوں کو ہم خوراک بناتے ہیں وہ سب بھی پانی کے ذریعہ تیار ہوتی ہیں۔ میں نے ایک بار ایک ڈاکٹر کے یہاں ایک شخص کو دیکھا۔ اُس کا پورا جسم بھینس کی طرح گھر دُرا ہورہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اس کو ایک عجیب قسم کی بیماری ہے جس کی وجہ سے وہ پانی نہیں پی سکتا۔ اس لیے اس کا جسم ایسا ہوگیا۔

پانی کے بارے میں قدیم انسان بہت کم جانتا تھا۔ ارسطو سے لے کر نیوٹن تک لوگ یہ جانتے تھے کہ مادی عناصر(elements) کی تعداد چار ہے— آگ، ہوا، مٹی، اور پانی۔ صرف انیسویں صدی کے نصف آخر میں یہ معلوم ہوسکا کہ مادی عناصر کی تعداد ۱۰۵ ہے (اگر چہ تحقیق ابھی جاری ہے)۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page