Ripples of the society
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
عناصر کی ترکیب ایٹم سے ہوتی ہے۔ پانی ایک بے رنگ رقیق چیز ہے۔ پانی کا سالمہ ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ایٹموں سے مل کر بنتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں پانی کے موضوع پر بہت زیادہ ریسرچ کی گئی ہے اور بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک مشہور اور جامع کتاب یہ ہے: The Structure and Properties of Water, by D. Eisenberg and W. Kauzmann. ایک تعلیم یافتہ ہندو نے یہاں ایک انگریزی کتاب اپنے دستخط کے ساتھ مجھ کو دی۔ یہ کتاب ۲۷۵ صفحات پر مشتمل تھی۔ یہ کتاب پہلی بار ۲۰۰۱ میں چھپی۔ کتاب کا نام اور مصنف کا نام یہ ہے: The Science of God by Dr. Shreesh Kumar Gupta میں نے دیکھا تو یہ پوری کتاب ژولیدہ فکری (confused thinking) کی عجیب و غریب مثال تھی۔ اُس کا ایک نمونہ یہ ہے کہ انہوں نے لکھا ہے کہ خدا نے ایک ہی مذہب بنایا ہے۔ قرآن اس دوامی مذہب کو اسلام کا نام دیتا ہے۔ قرآن کے مطابق، یہ مذہب سناتن دھرم ہے، یعنی دینِ قیم۔ وید کو پڑھو، قرآن کو پڑھو، بنیادی تعلیم ایک ہی ہے (۳۵)۔ پہلی مقدس کتاب وید اور آخری مقدس کتاب قرآن ایک ہی مذہب کو بتاتے ہیں۔ پھر کیوں اتنے سب مذہب ہیں اور ہر ایک کی تعلیم الگ الگ ہے۔ مسلمان صرف چودہ سو سال قدیم مذہبی فرقہ ہیں۔ مگر اس تقریباً ڈیڑھ ہزار سال کی مدت میں بھی تبدیلی داخل ہوگئی۔ چنانچہ وہ قرآن کو پڑھتے ہیں اور اُس کا مفہوم نہیں سمجھتے (۳۶):
They read Qur'an but do not understand its meaning. یہ ایک عجیب وغریب دعویٰ ہے۔ مصنف کو یہ بتانا چاہیے تھا کہ کیوں ایسا ہوا کہ مسلمان قرآن کو سمجھ نہ سکے مگر وہ خود قرآن کو سمجھ گئے۔ اس قسم کے دعوے اکثر لوگ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ خود مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو مختلف انداز میں یہی دعویٰ کر رہے ہیں۔
جودھ پور میں ۱۲۸ صفحہ کی ایک انگریزی کتاب ہم لوگوں کو دی گئی۔ اس با تصویر کتاب کا نام یہ تھا:
Ripples of the society
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues