Ripples of the society
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
اس کتاب میں راجستھان کے بارے میں بہت سی معلومات درج تھیں۔ مثلاً یہ کہ آزادی سے پہلے راجستھان ۲۱ ریاستوں کا مجموعہ تھا، اب راجستھان ۲۱ ضلعوں کی ایک ریاست ہے۔ اُس کا ایک حصہ سر سبز ہے اور دوسرا حصہ ریگستان۔ اُس کے ایک خاکہ میں بتایا گیا تھا کہ ریگستانی علاقہ میں کس طرح سوکھے درخت ہیں اور گاؤں کی عورتیں پینے کا پانی لینے کے لیے اپنے سر پر مٹکا رکھے ہوئے دور دور تک جاتی ہیں۔
ایک تعلیم یافتہ ہندو سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل تین چیزوں کے بارے میں لوگوں کو بہت زیادہ بتانے کی ضرورت ہے___ ٹررزم، ڈیموکریسی، جسٹس۔
میں نے کہا کہ ٹررزم یا آتنک واد کا مطلب ہے___ غیر حکومتی تنظیموں کا مسلح جنگ چھیڑنا۔ یعنی وہ چیز جس کو آج کل گوریلا وار کہا جاتا ہے۔ اسلام میں جنگ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے گوریلا وار اسلام میں سراسر حرام ہے۔ حکومت کے لیے بھی در پردہ جنگ جائز نہیں، اس لیے پراکسی وار بھی اسلام میں ناجائز قرار پاتی ہے۔
ڈیموکریسی کا مطلب ہے، ہر ایک کے لیے آزادی۔ مگر آزادی کی ایک حد ہے۔ وہ حد یہ ہے کہ میری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میرے پڑوسی کی آزادی شروع ہوتی ہے۔ My freedom ends where the freedom of my neighbour begins. آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ جس کو بھی محسوس ہوتا ہے کہ اُس کو جسٹس نہیں مل رہا ہے وہ فوراً اُس کے لیے سنگھرش شروع کر دیتا ہے۔ حالانکہ جسٹس کبھی کسی کے سنگھرش سے نہیں ملتا۔ انصاف یا حقوق خود اپنے عمل سے ملتے ہیں، نہ کہ دوسروں کے خلاف سنگھرش کرنے سے۔ ایک ہندو جو سرکاری افسر تھے، انہوں نے کہا کہ اسلام کی کوئی ایسی تعلیم بتائیے جس میں ہمارے جیسے لوگوں کو بھی کچھ ملتا ہو۔ میں نے کہا کہ حال میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی ۔ وہ ایک بڑی کمپنی میں ڈپٹی جنرل مینیجر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حال میں ہمارے یہاں پرموشن ہوا۔ میری سطح کے تین آدمی تھے۔ میرے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues