Ripples of the society
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
سوا ان دونوں کو پرموشن دے دیا گیا۔ یہ ایک کھلا ہوا تعصب تھا۔ مجھ کو بہت جھٹکا لگا۔ عجیب قسم کی مایوسی اور جھنجھلاہٹ دل میں آگئی۔
میں نے اُن سے کہا کہ میں آپ کو قرآن کی ایک آیت بتاتا ہوں، آپ اس پر عمل کریں۔ وہ آیت یہ ہے: لئن شکرتم لازیدنکم (اگر تم شکر کرو گے تو تم کو اور زیادہ دیا جائے گا) یعنی آپ ڈپٹی جنرل منیجر ہونے پر شکر کیجئے تو آپ کو جنرل منیجر کا عہدہ بھی مل جائے گا۔ گویا اللہ کے قانون میں نہ ملے ہوئے کو پانے کا راز یہ ہے کہ ملے ہوئے پر شکر ادا کیا جائے۔
اس تعلیم کے دو فائدے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ کے دل کا بوجھ اتر جاتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ اس نصیحت کو ماننے کے نتیجہ میں یہ ہوتا ہے کہ فطرت کے قوانین کو بلا روک اپنا کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے جس کا نتیجہ آخر کار آپ کے حق میں نکلتا ہے۔
جودھ پور کی مہاراجہ فیملی راٹھور راجپوت سے تعلق رکھتی ہے۔ راٹھور راجپوت اس علاقہ میں ۱۲۱۱ء میں آئے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب کہ سلطان محمد غوری نے قنوج کے مقام پر اُنہیں شکست دی تھی۔ راٹھور راجپوتوں کے تعلقات مغل سے بہت اچھے تھے۔ جودھ پور قدیم زمانہ میں دہلی۔ گجرات کی تجارتی شاہراہ پر قائم تھا اس لیے اُس کو کافی خوشحالی حاصل ہوئی۔
۱۹۴۷ء میں جب ریاست کا زمانہ ختم ہوا، اُس وقت مہاراجہ جودھ پور کے پاس کئی بڑے بڑے محل تھے۔ ان لوگوں نے ریاستی اقتدار سے محرومی پر شکایت اور احتجاج میں وقت ضائع نہیں کیا۔ انہوں نے نئی تبدیلیوں کو قبول کرتے ہوئے نئے حالات میں دوبارہ اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کئی محل کو فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کر دیا۔ مثلاً ان کا ایک محل ۳۷ کمروں پر مشتمل تھا۔ اُس کو نئی شکل دے کر ۹۸ کمروں کا ایک ہوٹل بنا دیا گیا۔ جودھ پور سے مسلم قیادت کی ایک انوکھی داستان وابستہ ہے۔ ۱۹۴۶ء میں جب یہ فیصلہ ہو گیا کہ برصغیر ہند کی تقسیم ہوگی اور یہاں انڈیا اور پاکستان دو الگ الگ ملک بنیں گے تو مسٹر محمد علی جناح جودھ پور آئے اور موجودہ مہاراجہ کے والد سے ملاقات کی۔ مہاراجہ نے ایک مسلم خاتون سے شادی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues