Ripples of the society
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
کی تھی۔ وہ مسلمانوں کے بارے میں اپنے اندر نرم گوشہ (soft corner) رکھتے تھے۔ جودھ پور کی آباد میں مسلمان اگر چہ صرف ۲۰ فیصد تھے مگر جودھ پور ریاست کی سرحد پاکستان سے ملتی تھی۔ مسٹر محمد علی جناح نے جودھ پور کے مہاراجہ سے ملاقات کر کے اُن سے کہا کہ آپ پاکستان سے الحاق کرلیں۔ پاکستان میں مہاراجہ کی حیثیت سے آپ کے تمام حقوق محفوظ رہیں گے۔ اس واقعہ کی خبر سردار پٹیل کو ہوئی جو ریاستوں کے محکمہ کے وزیر تھے۔ وہ فوراً جودھ پور آئے اور مہاراجہ سے ملاقات کر کے اُنہیں راضی کر لیا کہ وہ انڈیا کے ساتھ الحاق کریں۔ چنانچہ مہاراجہ نے حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے انڈیا کے ساتھ الحاق پر دستخط کر دیئے۔
یہ واقعہ پاکستانی قیادت کی اُس غلطی کو بتاتا ہے جس کے نتیجہ میں انہوں نے ریاست کشمیر کو غیر ضروری طور پر کھو دیا۔ ریاست کشمیر میں مسلمانوں کی عظیم اکثریت تھی اس لیے فطری طور پر وہ پاکستان کا حصہ ہو سکتا تھا۔ مگر پاکستان کی لیڈر شپ نے ناقابل فہم طور پر یہ کیا کہ اس نے اسی کے ساتھ تین اور ریاستوں کو پاکستان کے ساتھ الحاق کا منصوبہ بنایا۔ جو ناگڑھ اور حیدر آباد اور جودھ پور۔ حالانکہ یہ سراسر غیر حقیقت پسندانہ بات تھی، کیوں کہ جونا گڑھ اور حیدر آباد اور جودھ پور میں ہندوؤں کی عظیم اکثریت آبادی تھی۔ اس لیے آبادی اور جغرافیہ دونوں اعتبار سے ان ریاستوں کا پاکستان کے ساتھ الحاق سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔
آبادی کے اصول پر الحاق کے اصول کو جب پاکستانی لیڈروں نے توڑنا چاہا تو فطری طور پر وہ دونوں فریقوں کے لیے ٹوٹ گیا۔ اب فطرت کا اصول ٹوٹ گیا اور اس کے بجائے ردّ عمل کا جذبہ غالب آ گیا۔ اس نا خوش گوار صورت حال کی ذمہ داری بلاشبہ یک طرفہ طور پر صرف پاکستانی لیڈروں پر ہے۔
اس معاملہ میں پاکستانی لیڈر شپ کی غلطی یہ تھی کہ اُس نے قابل حصول اور ناقابل حصول کے فرق کو نہیں سمجھا۔ اُس نے ممکن کے ساتھ ناممکن کو بھی اپنے قبضہ میں لینا چاہا۔ چنانچہ پاکستانی لیڈر شپ کا انجام وہ ہوا جس کو ایک مشہور مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے جو آدمی دو خرگوشوں کے پیچھے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues