Al-Risala · August 2002 · page

Ripples of the society

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

دوڑے وہ ایک کو بھی نہیں پکڑ سکتا۔

ایک صاحب سے ہندوستان کے سیاست دانوں پر گفتگو ہوئی۔ وہ ہندوستان کے سیاست دانوں سے بہت نالاں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے سیاسی لیڈر سب کے سب نکمے ہیں۔ آزادی کے ۵۵ سال بعد بھی وہ ملک کو ترقی نہ دے سکے۔ میں نے کہا کہ یہ بات کلی طور پر درست نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد پہلے مرحلہ میں ملک کو جو لیڈر ملے وہ بہت دیانتدار اور دیش بھکت تھے۔ مگر کوئی لیڈر قومی ترقی میں اعلیٰ کردار صرف اس وقت ادا کر سکتا ہے جب کہ اس کے اندر بیک وقت دو صفتیں ہوں ــــ کیریکٹر اور صحیح آئیڈیالوجی۔

بدقسمتی سے ہمارے فاؤنڈر لیڈروں میں بیک وقت یہ دونوں چیزیں موجود نہ تھیں۔ میں نے پنڈت جواہر لال نہرو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نہرو اپنی دیش بھکتی اور اپنے کردار کے لحاظ سے بلاشبہ ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ اس سلسلہ میں ان کے بہت سے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد جب کہ نہرو وزیر اعظم بن چکے تھے وہ دہلی سے باہر کسی سفر پر گئے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ ملک کا وزیر اعظم اسپیشل ہوائی جہاز سے سفر نہیں کرتا تھا۔ اس کے آنے جانے پر لمبی موٹر کیڈ (motorcade) بھی نہیں ہوا کرتی تھی اور نہ ہی اس کے ساتھ سیکورٹی کا جتھا ہوتا تھا۔ واپسی میں نہرو کا جہاز جب دہلی ائر اسپیس پر پہنچا تو وہ ہوائی اڈہ پر اترنے کے بجائے فضا میں گردش کرنے لگا جس کو اصطلاح میں آربٹنگ (orbiting) یا سرکلنگ (circling) کہتے ہیں۔

اس پر نہرو کو تعجب ہوا۔ وہ پائلٹ کے پاس گئے اور اس سے پوچھا کہ جہاز لینڈ کیوں نہیں کر رہا ہے۔ پائلٹ نے کہا کہ ائر پورٹ سے ہم کو یہ مسیج ملا ہے کہ پرائم منسٹر کی گاڑی ابھی ائر پورٹ نہیں پہنچی ہے اس لئے تم تھوڑی دیر کے لئے انتظار کرو۔ یہ سن کر نہرو غصہ ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں پیدل نہیں چل سکتا۔ تم فوراً جہاز کو لینڈ کرو۔ اس کے بعد جہاز نیچے اترا تو جواہر لال نہرو ہوائی اڈہ سے نکل کر پیدل اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ جواہر لال نہرو اپنی دیش بھکتی اور اپنے کردار کے اونچے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page