Al-Risala · August 2002 · page

Ripples of the society

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

مرتبہ پر تھے۔ اس کے باوجود نہرو ایسا نہ کرسکے کہ وہ ملک کو ایک ایسی سمت دے سکیں جو ملک کے لئے بہتر مستقبل کا ضامن ہو۔

اس کا سبب یہ تھا کہ جواہر لال نہرو اگر چہ عملی اعتبار سے ایک باکردار آدمی تھے۔ مگر ان کی آئیڈیالوجی تخیلات پر مبنی تھی، نہ کہ حقائق پر۔ وہ اپنی سوچ کے اعتبار سے پورے معنوں میں ایک سوشلسٹ تھے اور تجربات بتاتے ہیں کہ سوشلزم ایک تخیلاتی رومانیت تھی، نہ کہ حقائق پر مبنی کوئی تعمیری نظریہ۔

کہا جاتا ہے کہ ایک سیاح ہندوستان آیا۔ یہاں وہ فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرا اور لال قلعہ اور تاج محل دیکھ کر واپس چلا گیا۔ واپسی کے بعد اس نے لکھا کہ ہندوستان کے لوگ بہت خوش قسمت ہیں۔ وہ جب زندہ رہتے ہیں تو لال قلعہ میں زندگی گزارتے ہیں ۔ اور جب مرتے ہیں تو تاج محل میں دفن ہوتے ہیں۔ جودھ پور آنے کے بعد اگر میں یہ کرتا کہ سی اول گسٹ ہاؤس میں ٹھہرتا اور پھر یہیں سے دہلی واپس چلا جاتا تو شاید میں سمجھتا کہ جودھ پور کے لوگ بہت خوش قسمت ہیں ۔ وہ شاندار گھروں میں آرام کے ساتھ رہتے ہیں، عمدہ کھانے کھاتے ہیں، زندگی کے مسائل انہیں پیش ہی نہیں آتے ۔ مگر میں جہاں بھی جاتا ہوں اپنے مزاج کے مطابق ، اس کو زیادہ سے زیادہ دیکھنے اور جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔

جودھ پور میں بھی میں نے ایسا ہی کیا۔ چنانچہ جب میں جودھ پور کے اندرونی حصوں میں گیا تو معلوم ہوا کہ یہاں ایک ایسی دنیا ہے جو سی اول گسٹ ہاؤس‘‘ سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں تنگ راستے ہیں، چھوٹے مکانات ہیں۔ بجلی، پانی اور صفائی کے مسائل ہیں ۔ یہاں ایسے لوگ ہیں جو کم آمدنی کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، وغیرہ۔

میرے ایک ساتھی نے مجھ سے سوال کیا کہ دنیا میں امیری اور غریبی کا جو فرق ہے وہ کیوں ہے۔ اسلام میں اس کو کس طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کے مطابق ، امیری اور غریبی دونوں ہی یکساں ہیں۔ کیوں کہ دونوں ہی یکساں طور پر امتحان (test) کے پرچے ہیں۔ ایک طالب علم

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page