Al-Risala · August 2002 · page

Ripples of the society

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

جو امتحان کا پرچہ کر رہا ہو اس کے لئے یہ ایک اضافی بات ہے کہ اس نے اپنے تین گھنٹے ائر کنڈیشنڈ ہال میں گزارے یا ایسے ہال میں جو ائر کنڈیشنڈ نہیں۔

ایک اور لحاظ سے دیکھیے تو آرام کی زندگی کے مقابلہ میں مشقت کی زندگی زیادہ بڑی نعمت ہے۔ مشقت کی زندگی کا یہ فائدہ ہے کہ وہ آدمی کو کٹ ٹو سائز (cut to size) کر کے حقیقت پسند بناتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر تواضع (modesty) اور خود احتسابی (introspection) جیسی اعلیٰ صفات پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ امیری میں جئیں وہ اپنے بارے میں زیادہ اندازہ (over-estimation) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے اندر آنا اور خود پسندی جیسی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

تاہم امیری اور غریبی دونوں میں سے کوئی بھی ابدی حالت نہیں۔ اس دنیا میں ہر روز یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ ایک غریب آدمی امیر بن جاتا ہے اور ایک امیر آدمی غریب ہو جاتا ہے۔ کوئی آدمی نہ پیدائش سے امیر ہوتا ہے اور نہ پیدائش سے غریب۔ ایک غریب آدمی محنت کر کے امیر بن جاتا ہے اور ایک امیر آدمی کاہلی کر کے غریبی کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔ یہ آدمی کی اپنی کوشش کا مسئلہ ہے، نہ کہ تقدیر کا مسئلہ۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: و آتاکم من كل ما سألتموه (ابراہیم ۳۴) یعنی اللہ نے انسان کو وہ ساری چیزیں دے دیں جن کی ضرورت اسے دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے تھی۔ موجودہ زمانہ کی سائنسی دریافتیں اور ایجادیں قرآن کے اس بیان کی عملی تصدیق ہیں۔ آیت کے نزول کے ۱۴ سوسال بعد اس کی یہ غیر معمولی تصدیق قرآن کے کتاب الہی ہونے کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو چیزیں قرآن کے اس بیان کی تصدیق بن کر ظاہر ہوئی ہیں انہی میں سے ایک کمپیوٹر بھی ہے۔ کمپیوٹر کے نظام میں جس چیز کو انٹرنیٹ (internet) کہا جاتا ہے اُس کا ایک چھوٹا سا تجربہ مجھے اپنے موجودہ سفر کے دوران ہوا۔ مجھ کو جب جودھ پور کا سفر پیش آیا تو میں نے مسٹر خالد انصاری سے کہا کہ آپ انٹرنیٹ سے جودھ پور کے بارے میں معلومات نکال کر دے دیں۔ ان کا تعلق اسی شعبہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page