Al-Risala · January 2002 · page 39

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۹

learn to live together in peace and amity. Otherwise, I should die in the attempt (p.449)

میرا موجودہ مشن میری زندگی کا بہت زیادہ مشکل اور پیچیدہ مشن ہے۔ میں کسی بھی متوقع صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ یہ 'کرو یا مرو' کا امتحان ہے۔ اس معاملے میں کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو یہ سیکھنا ہوگا کہ وہ کس طرح مل جل کر امن کے ساتھ رہیں، ورنہ میں اسی کوشش میں اپنی جان دے دوں گا۔ کانفرنس کے منتظمین کی طرف سے مجھے کئی انگریزی کتابیں ہدیہ کے طور پر دی گئیں ۔ ان کتابوں سے بنگلہ دیش کے سیکولر طبقہ کے ذہن کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کتابوں کے نام یہ ہیں: Tormenting Seventy One edited by Shahariar Kabir, Resist Fundamentalism edited by Shahariar Kabir, Of Blood and Fire Jahanara Imam and The Vanquished Generals and the Liberation War by Muntassir Mamun of Bangladesh ان کتابوں میں مشترک طور پر یہ بتایا گیا تھا کہ ۱۹۷۱ کی جنگ میں پاکستانیوں نے بنگلہ دیشیوں کے ساتھ کتنا زیادہ بے رحمی، اذیت اور دہشت(cruelty, torture, terror) کا مظاہرہ کیا۔ ان میں سے ایک کتاب Of Blood and Fire کے ٹائٹل پر خوشونت سنگھ کا تبصرہ درج کیا گیا تھا۔ اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ اس کتاب میں جن دہشت ناک مظالم کا ذکر ہے وہ کسی مبالغہ کے بغیر درست ہیں:

The record. Jahanara Imam maintained are neither hyperbolic nor exaggerated. اس کے بعد مسٹر خوشونت سنگھ نے لکھا:

I wish I could have presented General Tikka Khan with a copy of 'OF Blood and Fire'. It explains why the Awam of East Pakistan turned against west Pakistan. بنگلہ دیش میں قیام کے زمانہ میں مجھ کو جو معلومات حاصل ہوئیں اس سے میں نے یہ سمجھا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page