Ripples of the society
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
سےہے۔ انہوں نے اپنے کمپیوٹر پر جودھ پور کا لفظ ٹائپ کیا اور اس کے بعد اس کا مخصوص سوئچ دبایا اور اچانک ان کے کمپیوٹر نے ”عالمی لائبریری‘‘ سے لے کر جودھ پور کے بارے میں ٹائپ شدہ ۱۳ صفحات کا ایک پورا معلوماتی دفتر ان کے سامنے رکھ دیا۔ اس میں جودھ پور کی تاریخ، اس کا جغرافیہ، اور اس سے متعلق دوسری معلومات تفصیل کے ساتھ موجود تھیں ۔
انٹرنیٹ کے ذریعہ جودھ پور کے بارے میں جو معلومات مجھے حاصل ہوئیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ موجودہ شہر ۱۴۵۹ء میں مارواڑ کی راجدھانی کے طور پر بنایا گیا ۔ اُس کے بانی راؤ جودھا تھے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ رام کی ذریت ہیں :
The former capital of Marwar state, was founded in 1459 by Rao Jodha who claimed descendant of Lord Ram. انسانی دماغ بھی زیادہ پیچیدہ قسم کا ایک زندہ کمپیوٹر ہے۔ اس کا تجربہ بھی مجھے اسی سفر کے دوران پیش آیا۔ میں نے جودھ پور کا سفر کیا تو میرے ذہن میں یہ نہ تھا کہ مجھے اس کا سفر نامہ لکھنا ہے۔ سفر نامہ کے لیے میرا طریقہ یہ ہے کہ یا تو سفر کے دوران ساتھ ساتھ لکھتا رہتا ہوں یا مختلف تجربات ومشاہدات کو اشارات کی صورت میں لکھ لیتا ہوں۔ اور پھر واپسی کے بعد اُن کو تفصیلی صورت میں مرتب کرتا ہوں ۔ مگر جودھ پور کے تین روزہ سفر میں میں نے نہ سفر نامہ مرتب کیا اور نہ اشارات لکھے۔ حتیٰ کہ سفر کی باتوں کو ذہن میں بھی شعوری طور پر محفوظ کرنے کی کوشش نہیں کی۔
سفر سے واپسی کے بعد ایک اتفاقی واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد خیال ہوا کہ مجھے جودھ پور کا سفر نامہ لکھنا چاہئے ۔ یہ میری پوری زندگی میں پہلا موقع تھا کہ میں ایک سفر نامہ کو تحریری یادداشت کے بغیر مرتب کرنے کی کوشش کروں۔ اب میں نے ایک نیا تجربہ کیا۔ میں اپنے ساتھی برادرم ندیم احمد کے ساتھ اس طرح بیٹھ گیا کہ میں بولتا جاتا تھا اور وہ اُس کو لکھتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ تقریباً ۴۰ صفحہ کا پورا ایک سفر نامہ تیار ہو گیا۔
اس تجربہ کے ذریعہ ایک نئی حقیقت کا انکشاف ہوا۔ جیسا کہ نفسیاتی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے، انسان کا شعور (conscious mind) اگر کسی بات کو سننے اور دیکھنے کے باوجود نہ پکڑے تب بھی اس
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues