Al-Risala · August 2002 · page

Ripples of the society

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

کا تحت شعور (sub-conscious mind) اُس کو پوری طرح محفوظ کر لیتا ہے۔ اور کسی خاص موقع پر اُس کو دہرا سکتا ہے۔ میرے ساتھ یہی پیش آیا۔

جب میں جودھ پور کا سفرنامہ لکھوانے لگا تو میرے ذہن کا کمپیوٹر اسی طرح معلومات مجھے یاد دلانے لگا۔ یہاں تک کہ چند دن میں پورا سفر نامہ تیار ہو گیا۔ جودھ پور راجستھان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے (پہلا شہر جے پور ہے)۔ اس کا طرز تعمیر قدیم و جدید کا نمونہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کا چتامن قلعہ (مہران گڑھ) ١۴۵٩ء میں بنایا گیا تھا۔ اس قلعہ میں ایک میوزیم بھی واقع ہے۔ یہاں کے مشہور امید بھون پیلیس کی بنیاد ۱۹۲۹ء میں رکھی گئی۔ ۱۹۴۳ء میں وہ بن کر تیار ہوا۔ ۱۹۴۴ء سے وہ راجہ فیملی کے لوگوں کی قیام گاہ ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ جودھ پور کے مقابلہ میں حیدر آباد بہت بڑی ریاست تھی۔ جودھ پور گویا ایک شہر تھا اور حیدر آباد ایک پورا ملک۔ مگر جودھ پور آج بھی اپنی شان وشوکت کے ساتھ باقی ہے اور حیدر آباد کی ریاستی حیثیت ختم ہوگئی۔

دونوں میں اس فرق کا سب سے بڑا سبب قیادت کا فرق ہے۔ حیدر آباد میں قاسم رضوی جیسا غیر حقیقت پسند لیڈر پیدا ہوا جس نے قوم کو ایک ناقابل حصول نشانہ پر کھڑا کر دیا، یعنی آزاد ریاست۔ دوسری طرف جودھ پور کے مہاراجہ نے حقیقت پسندی کا انداز اختیار کیا۔ انہوں نے ممکن کے دائرہ میں اپنے مستقبل کی نئی منصوبہ بندی کی اور وہ پوری طرح کامیاب رہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ۱۹۴۷ء میں نئی دہلی نے ریاست حیدر آباد کو داخلی اٹانومی کی پیشکش کی تھی، بشرطیکہ وہ "آزاد حیدر آباد" کا خیال چھوڑ دے۔ ریاست حیدر آباد کے ذمہ داروں نے اگر اس پیش کش کو قبول کر لیا ہوتا تو یقیناً آج اُس کی حیثیت جودھ پور سے بہت زیادہ بہتر ہوتی۔

۱۲ مئی ۲۰۰۲ء کی صبح کو جودھ پور سے واپسی ہوئی۔ واپسی کے اس سفر میں دو آدمیوں کا ساتھ رہا__ بابو لال شرما اور نیتن ملے۔ ان لوگوں سے راستہ میں مختلف قسم کی باتیں ہوئیں۔ بابو لال شرما کا تعلق گاندھی پیس فاؤنڈیشن سے ہے۔ اور نیتن لھے کا تعلق آرٹ آف لیونگ سے۔ دونوں کے تجربہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page