Al-Risala · August 2002 · page

Ripples of the society

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

کا میدان الگ الگ ہے۔ سفر میں جو فائدے ہیں اُن کا خاص پہلو یہ ہے کہ نئے نئے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے اور اُن کے ذریعہ مختلف شعبوں کی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ تاہم معلومات حاصل کرنے کا خاص راز یہ ہے کہ آدمی سوال کرنا جانتا ہو۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کے بارے میں آتا ہے کہ: کان يتعلم من كل أحد ۔ میں عرصہ تک سوچتا رہا کہ حضرت عمر ہرایک سے کس طرح علم سیکھتے تھے۔ اس کا جواب مجھے یہ ملا کہ وہ ہرایک سے اُس کے دائرہ کا سوال کرتے تھے۔ اور اس طرح سوالات کر کے ہرایک کو یہ موقع دیتے تھے کہ وہ اپنی معلومات بیان کرے۔ یہی طریقہ میں نے خدا کے فضل سے اختیار کیا ہے۔ ایسے مواقع پر میں یہ کرتا ہوں کہ لوگوں سے پوچھوں اور اُن کی باتوں کو سُنوں۔

واپسی کا سفر بھی دوبارہ جٹ ایرویز کے ذریعہ ہوا۔ دوران پرواز انگریزی اخبار ایشین ایج (The Asian Age) کا شمارہ ۱۲ مئی ۲۰۰۲ء دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک دلچسپ خبر تھی ۔ اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ اجودھیا کی ایک ہندو تنظیم نے یہ پیش کش کی ہے کہ اگر مسلمان بابری مسجد کو جگہ بدل کر دوسرے مقام پر بنانے کے لیے راضی ہو جائیں تو وہ بھی رام مندر کو موجودہ متنازعہ جگہ کے بجائے دوسرے مقام پر بنانے کے لیے راضی ہو سکتے ہیں: Samiti offers to shift Ram Temple Lucknow: Sri Ram Janmbhoomi Punaruddahn Samiti, a party in the Ram Janmbhoomi title deed case, on Saturday said it was ready to shift the Ram Temple at Ayodhya from the disputed site if the Muslims too agreed to build the mosque elsewhere. Samiti leader Anand Swarup said here that Ram Temple issue should not be exploited for creating discord among Hindus and Muslims. (12 May, 2002)

۱۲ مئی ۲۰۰۲ کو دو پہر سے کچھ پہلے ہمارا جہاز دہلی پہنچ گیا۔ دہلی ایر پورٹ پر بظاہر تاخیر کی کوئی وجہ نہ تھی مگر جٹ ایرویز کے عملہ نے ناریل کی واپسی میں دیر کی۔ حالانکہ جے پور ایر پورٹ پر انہوں نے کہا تھا کہ ناریل آپ کو دہلی ایر پورٹ پر پہنچتے ہی مل جائے گا۔ قانون کو دوسرے کے اوپر چلانا بہت آسان ہے، مگر قانون کو خود اپنے اوپر چلانا بہت زیادہ مشکل۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page