Al-Risala · August 2002 · page

Ripples of the society

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

ایک خط

برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۱۴ مارچ ۲۰۰۲ء کو آپ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ آپ نے ملی اتحاد کے مسئلہ پر زور دیا۔ اس معاملہ پر غور کرنے کے بعد میری سمجھ میں آتا ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کے اندر اتحاد نہیں۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اتحاد کی بڑی بڑی کوششوں کے باوجود مسلمان متحد نہ ہوسکے۔ مولانامحمد علی جوہر نے خلافت کے نام پر بظاہر سارے برصغیر ہند کے مسلمانوں میں اتحاد پیدا کر دیا تھا۔ مگر یہ اتحاد بہت جلد ریت کے ڈھیر کی طرح بکھر گیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی صورت میں بظاہر مسلمانوں کا بہت بڑا اتحاد قائم ہوا، مگر پاکستان بننے کے بعد ہی یہ اتحاد ٹوٹ پھوٹ کر منتشر ہوگیا۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی صورت میں بظاہر پورے ملک کے مسلمانوں کا اتحاد قائم ہوگیا مگر اُس سے بھی جلسہ جلوس کے وقتی دھوم کے سوا مسلمانوں کو کچھ اور نہیں ملا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نام سے بڑے بڑے اتحادی جلسے کئے گئے مگر ملت ایک متحد گروہ نہ بن سکی۔ بابری مسجد کے نام پر بڑی تعداد میں اتحادی مظاہرے ہوئے مگر وہ غیر متحد ملت کو متحد ملت نہ بنا سکے، وغیرہ۔ مذکورہ اتحادی کوششوں کے درمیان ہمارا ہر لیڈر بڑے بڑے الفاظ بولتا رہا۔ اس لحاظ سے جائزہ لیجئے تو یہ محسوس ہوگا کہ ہمارے لیڈروں کو شاید یہ خبر ہی نہ تھی کہ اتحاد کیسے قائم ہوتا ہے اور اتحاد کیسے باقی رہتا ہے۔

مثلاً ہمارے لیڈر بظاہر اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھے کہ بھیڑ اور اتحاد میں فرق ہے۔ خطرہ کی گھنٹی بجا کر کوئی بھی شخص وقتی بھیڑ اکٹھا کر سکتا ہے مگر حقیقی اتحاد ایک مثبت واقعہ ہے جو صرف شعوری بیداری کے نتیجہ میں کسی قوم کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ ان تمام لوگوں نے بھیڑ کو اتحاد سمجھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اتحاد کو شعوری طور پر جانتے بھی نہ تھے۔ پھر جو لوگ اتحاد کی حقیقت سے بے خبر ہوں، وہ کیوں کر عملی اتحاد قائم کریں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page