Ripples of the society
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲، صفحہ ۴۱
دوسری بت یہ کہ اکثر اتحاد اپنے رہنماؤں کے اختلاف کی بنا پر ختم ہوا۔ مثلاً آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے رہنماؤں کا باہمی اختلاف ۔ یہ لوگ اس ابتدائی حقیقت سے بے خبر تھے کہ اتحاد ہمیشہ اختلاف کے باوجو د قائم ہوتا ہے ، نہ کہ اختلاف کے بغیر۔ ایسے بے شعور لوگوں سے یہ اُمید کرنا ہی بے سود ہے کہ وہ ملت کو ایک متحد ملت بنا ئیں گے۔
میرے نزدیک اتحاد کا آغاز اتحاد کا نفرنس سے نہیں ہو سکتا بلکہ وہ شعوری بیداری کے ذریعہ ہوتا ہے۔ موجودہ مسلمانوں میں سب سے پہلے شعوری بیداری پیدا کرنا ہے۔ ا اُن کے اندر وسیع پیمانہ پر ملی صحافت وجود میں لانا ہے۔ اُن کے اندر تعمیری معنوں میں ایک قیادت بر پا کرنا ہے۔ اُن کے اندر صبر اور تحمل کا مزاج پیدا کرنا ہے۔ اُن کے اندر انفرادی سوچ کے بجائے اجتماعی سوچ لانا ہے۔ اس قسم کی ابتدائی کوششوں کے بغیر جو اتحاد کی کانفرنس ہوگی وہ نشستند و گفتند و برخاستند کے سوا کوئی اور مثال قائم نہیں کر سکتی۔
اس وقت ہندوستان کے مسلمان ذہنی اعتبار سے جس مقام پر ہیں وہ یہ ہے کہ اُن کے پاس صرف منفی سوچ کا سرمایہ ہے، مثبت سوچ کا فکری سرمایہ اُن کے پاس موجود نہیں۔ وہ صرف اپنی ملت کے سطحی مفاد کو جانتے ہیں۔ اُن کی موجودہ تمام سرگرمیاں کمیونٹی ایکٹوزم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وسیع تر انسانیت کے درد سے اُن کے سینے خالی ہیں۔ اعترافِ حقیقت کی اہم ترین انسانی قدر اُن کے اندر اتنی کم ہے کہ شاید اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ ذاتی مفاد اور ذاتی مصالح سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی اہمیت نہ اُن کے اصاغر کو معلوم ہے اور نہ اُن کے اکابر کو۔ زمانہ کی تبدیلیوں سے اُن کے دانشور اور علماء دونوں اتنا زیادہ بے خبر ہیں کہ دنیا کی کوئی قوم شاید اتنی زیادہ بے خبر نہیں ہوگی۔ اُن کا ذہنی ارتقاء اتنا کم ہوا ہے کہ اُن کے درمیان یا تو برکت اور فضیلت پر مبنی تحریکیں مقبول ہوتی ہیں یا جذباتی سیاست پر مبنی تحریکیں۔ ایسی حالت میں اتحاد ملت عمومی معنوں میں ایک ایسا خواب ہے جس کی کوئی تعبیر مستقبل قریب میں ممکن ہی نہیں۔ ۱۵ مارچ ۲۰۰۲ء دعا گو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues